امریکی ریاست میزوری میں شدید بارش کے بعد سیلابی صورتحال، رہائشی علاقے پانی میں ڈوب گئے، ایمرجنسی نافذ RSN پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اورگورننگ باڈی میں اختلافات، آزاد کشمیر انتخابات بائیکاٹ پر پی ٹی آئی تاحال فیصلہ نہ کرسکی RSN ناروےکے اسٹار فٹبالر ارلنگ ہالینڈ سے مشابہت نے روسی ماڈل کی قسمت بدل دی RSN شہید رہنما سید علی خامنہ ای اور تمام شہدا کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، ایرانی سپریم لیڈر RSN وفاقی کابینہ میں ردو بدل اور نوجوان و نئے چہروں کی شمولیت کا امکان، وزیراعظم نے قریبی رفقاء سے مشاورت مکمل کرلی RSN سرگودھا میں رشتہ دار نے 6 سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا RSN گیت ’خسارہ‘ کا خیال اُس وقت آیا جب اسکی کوئی شاعری بھی نہیں تھی بس ذہن میں ٹون تھی: عبد الحنان RSN شادی کا فیصلہ میرا تھا، اس معاملے میں کسی کو الزام نہیں دے سکتی: میرا سیٹھی RSN فیلڈ مارشل عاصم منیرکی ترک صدر سے ملاقات، پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرگفتگو RSN پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس پر کیوں نہیں؟ فیصل قریشی نے وجہ بتا دی RSN
تازہ خبریں

پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس پر کیوں نہیں؟ فیصل قریشی نے وجہ بتا دی

3 • 14 Jul 2026

پاکستانی اداکار فیصل قریشی کے اس بیان نے نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ پاکستانی مواد کو نیٹ فلکس پر مناسب جگہ نہ ملنے کی ایک وجہ بھارتی مارکیٹ اور اس کا اثر و رسوخ ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ حکومت پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، خصوصاً نیٹ فلکس، پر ان کا جائز مقام دلانے کے لیے سرگرم اقدامات کر رہی ہے۔

پاکستانی فلمیں اور ڈرامے پوری دنیا میں اپنی بہترین کہانیوں اور جاندار اداکاری کی وجہ سے بے حد پسند کیے جاتے ہیں، لیکن ایک بڑا سوال جو اکثر ناظرین کے ذہنوں میں اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا یہ بہترین مواد عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر کیوں نظر نہیں آتا۔ اس اہم موضوع پر حال ہی میں اداکار فیصل قریشی نے ایک پوڈ کاسٹ میں کھل کر بات کی ہے اور اس کے پیچھے چھپی وجوہات سے پردہ اٹھایا ہے۔ جب میزبان نے ان سے پوچھا کہ پاکستانی ڈرامے اور فلمیں نیٹ فلکس پر کب آئیں گی، تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر سچ بولوں تو بھارتی نہیں چاہتے کہ پاکستانی مواد نیٹ فلکس پر آئے۔ انہوں نے اس کی دوسری بڑی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ ہم سچ نہیں بولتے جبکہ نیٹ فلکس کے لیے حقیقت دکھانا ضروری ہوتا ہے۔ فیصل قریشی کے مطابق نیٹ فلکس یہ چاہتا ہے کہ ہر ملک اپنے معاشرے کی خامیاں اور تاریک پہلو بھی دنیا کو دکھائے، لیکن پاکستان میں سب کچھ دکھانا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ جو فلم ساز ملک کی اصل تصویر پیش کرے گا شاید وہ بعد میں پاکستان میں رہ بھی نہ سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ملک میں زیادہ تر لوگ نیٹ فلکس کا اکاؤنٹ خریدنے کے بجائے دوستوں اور رشتہ داروں کا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں یا ایک ہی سبسکرپشن کئی لوگ مل کر چلاتے ہیں۔ اس لیے نیٹ فلکس کو پاکستان سے وہ آمدنی نہیں ملتی جو بھارت سے حاصل ہوتی ہے، اسی وجہ سے بھارتی مارکیٹ کا اثر زیادہ ہے۔“ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں تو فلم ریلیز ہوتے ہی پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ یوٹیوب پر کب آئے گی۔ دوسری جانب حکومت پاکستان بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے متحرک نظر آتی ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے معیار کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں اور دنیا بھر میں انہیں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تفریحی صنعت کو ملک کی برآمدات بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ سمجھتی ہے اور اس سلسلے میں کام کر رہی ہے۔ علاقائی سیاست کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے علاقائی سیاست کے باعث طویل عرصے سے ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی مواد کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جا رہا۔ احسن اقبال نے امید دلائی کہ حکومت نیٹ فلکس اور دیگر اسٹریمنگ کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے تاکہ اس علاقائی نظام کو بدلا جا سکے اور ہمارے تخلیق کاروں کو منصفانہ مواقع ملے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت ایک مقامی اسٹریمنگ پلیٹ فارم یعنی اپنا او ٹی ٹی بنانے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ پاکستانی مواد کو کسی کے سہارے کے بغیر دنیا بھر میں پہنچایا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ ”اڑان پاکستان“ پروگرام کے تحت قومی برآمدی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے اور اس سے ملک کی تخلیقی صنعت کو عالمی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے قبل معروف فلم ساز مہرین جبار بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کر چکی ہیں کہ ایک ہمسایہ ملک اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے عالمی پلیٹ فارمز پر پاکستانی مواد کو پس منظر میں دھکیل رہا ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں حالات بہتر ہوں گے، خصوصاً اس لیے کیونکہ پاکستان کی پہلی نیٹ فلکس سیریز اگلے ایک سال کے اندر ریلیز ہونے کی امید ہے، جو پاکستانی ڈراموں اور فلموں کے لیے عالمی سطح پر کامیابی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔
More News