وہ ملک جہاں ریلوے ٹریک کو سولر پینلز سے بجلی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے
10 • 07 Jul 2026
سولر پینلز کو اکثر چھتوں پر لگایا جاتا ہے جس کا مقصد ماحول دوست بجلی کا حصول ہوتا ہے مگر دنیا کا ایک ملک ایسا ہے جہاں ریلوے ٹریک کو ہی سولر پینلز سے بجلی کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
سوئٹزر لینڈ کے 100 میٹر لمبے ریلوے ٹریک پر اس منفرد تجربے کا آغاز اپریل 2025 میں ہوا۔
سوئٹزر لینڈ کے علاقے Buttes میں ایک کمپنی سن ویز کی جانب سے ریلوے ٹریک کو بجلی بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس کمپنی کی جانب سے ایسے سولر پینلز 100 میٹر طویل ٹریک پر نصب کیے گئے جن کو آسانی سے نکالا جاسکتا ہے جب کہ ٹرینیں وہاں سے گزرتی ہیں۔
اس ٹریک پر 48 فوٹو والٹیک پینلز کو نصب کیا گیا جو مجموعی طور پر 18 کلو واٹ بجلی پیدا کرسکتے ہیں جب کہ ٹرینیں گزرنے سے بھی انہیں نقصان نہیں پہنچتا۔
درحقیقت اس منصوبے کی خاص بات پینلز کو آسانی سے نکال لینا ہے تاکہ جب بھی ٹریک پر کام کرنا ہو تو انہیں آسانی سے نکالا جاسکے۔
مئی 2025 میں ان سولر پینلز کو نصب کیا گیا اور اب تک 16 ہزار کلو واٹ سے زائد بجلی پیدا ہوسکتی ہے جو کہ متعدد گھروں کی بجلی کی سالانہ ضروریات کے برابر ہے۔
سن ویز کی جانب سے یہ تجربہ 2028 تک جاری رکھا جائے گا اور کمپنی نے بتایا کہ اگر ایک کلومیٹر طویل ٹریک پر سولر پینلز کو لگایا جائے تو ہر سال 200 میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی جو کہ 60 گھروں کے لیے کافی ثابت ہوگی۔
کمپنی نے بتایا کہ اس تجربے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ انفرا اسٹرکچر کو بھی ماحول دوست بجلی کے حصول کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یعنی میدانوں، چھتوں، جنگلات یا زرعی زمین کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔
اب تک اس تجربے کے نتائج مثبت رہے ہیں اور ٹرینوں کے گزرنے سے بھی پینلز کی صفائی میں جزوی مدد ملتی ہے۔
اس تجربے میں دیگر ممالک میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں، فرانس میں بھی اس حوالے سے سن ویز کے ساتھ شراکت داری کی جا رہی ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے مواقعوں پر تحقیق کی جا رہی ہے۔