امریکی ریاست میزوری میں شدید بارش کے بعد سیلابی صورتحال، رہائشی علاقے پانی میں ڈوب گئے، ایمرجنسی نافذ RSN پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اورگورننگ باڈی میں اختلافات، آزاد کشمیر انتخابات بائیکاٹ پر پی ٹی آئی تاحال فیصلہ نہ کرسکی RSN ناروےکے اسٹار فٹبالر ارلنگ ہالینڈ سے مشابہت نے روسی ماڈل کی قسمت بدل دی RSN شہید رہنما سید علی خامنہ ای اور تمام شہدا کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، ایرانی سپریم لیڈر RSN وفاقی کابینہ میں ردو بدل اور نوجوان و نئے چہروں کی شمولیت کا امکان، وزیراعظم نے قریبی رفقاء سے مشاورت مکمل کرلی RSN سرگودھا میں رشتہ دار نے 6 سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا RSN گیت ’خسارہ‘ کا خیال اُس وقت آیا جب اسکی کوئی شاعری بھی نہیں تھی بس ذہن میں ٹون تھی: عبد الحنان RSN شادی کا فیصلہ میرا تھا، اس معاملے میں کسی کو الزام نہیں دے سکتی: میرا سیٹھی RSN فیلڈ مارشل عاصم منیرکی ترک صدر سے ملاقات، پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرگفتگو RSN پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس پر کیوں نہیں؟ فیصل قریشی نے وجہ بتا دی RSN
تازہ خبریں

وہ ملک جہاں ریلوے ٹریک کو سولر پینلز سے بجلی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے

10 • 07 Jul 2026

سولر پینلز کو اکثر چھتوں پر لگایا جاتا ہے جس کا مقصد ماحول دوست بجلی کا حصول ہوتا ہے مگر دنیا کا ایک ملک ایسا ہے جہاں ریلوے ٹریک کو ہی سولر پینلز سے بجلی کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔

سوئٹزر لینڈ کے 100 میٹر لمبے ریلوے ٹریک پر اس منفرد تجربے کا آغاز اپریل 2025 میں ہوا۔ سوئٹزر لینڈ کے علاقے Buttes میں ایک کمپنی سن ویز کی جانب سے ریلوے ٹریک کو بجلی بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کمپنی کی جانب سے ایسے سولر پینلز 100 میٹر طویل ٹریک پر نصب کیے گئے جن کو آسانی سے نکالا جاسکتا ہے جب کہ ٹرینیں وہاں سے گزرتی ہیں۔ اس ٹریک پر 48 فوٹو والٹیک پینلز کو نصب کیا گیا جو مجموعی طور پر 18 کلو واٹ بجلی پیدا کرسکتے ہیں جب کہ ٹرینیں گزرنے سے بھی انہیں نقصان نہیں پہنچتا۔ درحقیقت اس منصوبے کی خاص بات پینلز کو آسانی سے نکال لینا ہے تاکہ جب بھی ٹریک پر کام کرنا ہو تو انہیں آسانی سے نکالا جاسکے۔ مئی 2025 میں ان سولر پینلز کو نصب کیا گیا اور اب تک 16 ہزار کلو واٹ سے زائد بجلی پیدا ہوسکتی ہے جو کہ متعدد گھروں کی بجلی کی سالانہ ضروریات کے برابر ہے۔ سن ویز کی جانب سے یہ تجربہ 2028 تک جاری رکھا جائے گا اور کمپنی نے بتایا کہ اگر ایک کلومیٹر طویل ٹریک پر سولر پینلز کو لگایا جائے تو ہر سال 200 میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی جو کہ 60 گھروں کے لیے کافی ثابت ہوگی۔ کمپنی نے بتایا کہ اس تجربے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ انفرا اسٹرکچر کو بھی ماحول دوست بجلی کے حصول کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یعنی میدانوں، چھتوں، جنگلات یا زرعی زمین کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب تک اس تجربے کے نتائج مثبت رہے ہیں اور ٹرینوں کے گزرنے سے بھی پینلز کی صفائی میں جزوی مدد ملتی ہے۔ اس تجربے میں دیگر ممالک میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں، فرانس میں بھی اس حوالے سے سن ویز کے ساتھ شراکت داری کی جا رہی ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے مواقعوں پر تحقیق کی جا رہی ہے۔
More News