امریکی ریاست میزوری میں شدید بارش کے بعد سیلابی صورتحال، رہائشی علاقے پانی میں ڈوب گئے، ایمرجنسی نافذ RSN پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اورگورننگ باڈی میں اختلافات، آزاد کشمیر انتخابات بائیکاٹ پر پی ٹی آئی تاحال فیصلہ نہ کرسکی RSN ناروےکے اسٹار فٹبالر ارلنگ ہالینڈ سے مشابہت نے روسی ماڈل کی قسمت بدل دی RSN شہید رہنما سید علی خامنہ ای اور تمام شہدا کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، ایرانی سپریم لیڈر RSN وفاقی کابینہ میں ردو بدل اور نوجوان و نئے چہروں کی شمولیت کا امکان، وزیراعظم نے قریبی رفقاء سے مشاورت مکمل کرلی RSN سرگودھا میں رشتہ دار نے 6 سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا RSN گیت ’خسارہ‘ کا خیال اُس وقت آیا جب اسکی کوئی شاعری بھی نہیں تھی بس ذہن میں ٹون تھی: عبد الحنان RSN شادی کا فیصلہ میرا تھا، اس معاملے میں کسی کو الزام نہیں دے سکتی: میرا سیٹھی RSN فیلڈ مارشل عاصم منیرکی ترک صدر سے ملاقات، پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرگفتگو RSN پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس پر کیوں نہیں؟ فیصل قریشی نے وجہ بتا دی RSN
تازہ خبریں

پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے دہائیوں سے اسکول سے باہر ہیں، سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ میں انکشاف

1 • 06 Jul 2026

لاہور: سروسز اکیڈمی کی پالیسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے دہائیوں سے اسکول سے باہر ہیں جس کی بنیادی وجوہات ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط نظام اور کمزور طرز حکمرانی ہیں۔

پاکستانپاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے دہائیوں سے اسکول سے باہر ہیں، سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ میں انکشاف پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے دہائیوں سے اسکول سے باہر ہیں، سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ میں انکشاف پنجاب ملک کا سب سے بڑا تعلیمی بوجھ اٹھانے والا صوبہ ہے، یہاں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 96 لاکھ سے ایک کروڑ 4 لاکھ کے درمیان ہے: رپورٹ۔ فوٹو فائل لاہور: سروسز اکیڈمی کی پالیسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے دہائیوں سے اسکول سے باہر ہیں جس کی بنیادی وجوہات ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط نظام اور کمزور طرز حکمرانی ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کی کوششیں بدستور گہرے ساختی مسائل، مسلسل مالی کمزوری، غیر مربوط انتظامی ڈھانچے، ناقص گورننس اور صوبوں کی غیر مساوی استعداد کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ یہ انکشاف سول سروسز اکیڈمی (CSA) کی جانب سے تیار کی گئی ایک جامع تقابلی پالیسی جائزہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تمام صوبوں نے قومی تعلیمی ایکشن پلان (NEAP) 2026 کے تحت پرعزم تعلیمی روڈ میپس مرتب کیے ہیں، تاہم اصل مسئلہ پالیسی سازی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد ہے۔ پاکستان کو درپیش موجودہ تعلیمی بحران وقتی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (PIE) کے مطابق اسکول سے باہر بچوں سے متعلق دستیاب تاریخی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ غربت، تیز رفتار آبادی میں اضافہ، کمزور حکمرانی اور تعلیم پر مسلسل کم سرمایہ کاری نے ہر گزرتے برس کے ساتھ بحران کو مزید سنگین بنایا۔ رپورٹ کے مطابق 1990 کی دہائی سے لے کر 2010 کی دہائی تک اسکول سے باہر بچوں کی نگرانی کی ذمہ داری اکیڈمی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ (AEPAM) کے پاس رہی، تاہم اس پورے عرصے میں لاکھوں بچے تعلیمی نظام سے باہر رہے کیونکہ سرکاری تعلیمی انفراسٹرکچر آبادی میں اضافے کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکا، جس کے نتیجے میں کم لاگت نجی تعلیمی اداروں کا دائرہ مسلسل بڑھتا گیا۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کیمپس میں قائم پانچ پالیسی اینالیسز گروپس کی تیار کردہ اس رپورٹ میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی تعلیمی پالیسیوں کا مؤثریت، کارکردگی، مساوات، اخلاقیات اور قابلِ عمل ہونے کے پیمانوں پر تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ کے درمیان ہے، جس کے باعث آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت مفت اور لازمی تعلیم کی آئینی ضمانت کے باوجود پاکستان دنیا میں تعلیمی محرومی کا دوسرا بڑا بوجھ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 8 مئی 2024 کو قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان سے سیاسی سطح پر غیر معمولی توجہ ضرور حاصل ہوئی، تاہم ہر صوبے کو مختلف نوعیت کے ساختی مسائل کا سامنا ہے، اس لیے یکساں قومی حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ جائزے کے مطابق پنجاب کا بنیادی مسئلہ اسکول سے باہر بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے، سندھ پرائمری تعلیم کے بعد تعلیمی نظام کے انہدام اور موسمیاتی آفات سے دوچار ہے، خیبرپختونخوا میں شورش، دشوار گزار جغرافیہ اور خواتین اساتذہ کی کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، بلوچستان کمزور اداروں، وسیع فاصلے اور غیر فعال اسکولوں کے باعث شدید بحران کا شکار ہے، جبکہ وفاقی علاقوں میں نسبتاً بہتر مجموعی اندراج کے باوجود اندرونی عدم مساوات موجود ہے۔ رپورٹ میں پنجاب کو ملک کا سب سے بڑا تعلیمی بوجھ اٹھانے والا صوبہ قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہاں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 96 لاکھ سے ایک کروڑ 4 لاکھ کے درمیان ہے۔ پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026 کی بنیادی رپورٹ کے مطابق 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول میں داخلہ ہی نہیں لیا جبکہ مزید 31 لاکھ 60 ہزار بچے تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف داخلے کا نہیں بلکہ بچوں کو نظامِ تعلیم میں برقرار رکھنا بھی بڑا چیلنج ہے۔
More News