لاہور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن کا ایک اور شاندار اعزاز RSN فیلڈ مارشل کا دورہ ایران ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا: ترجمان دفتر خارجہ RSN مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ملبہ نہیں ڈالوں گا، سیریز کے بعد فیصلہ کریں گے کس کو نکالنا ہے، ہیڈکوچ سرفراز احمد RSN پاکستان ہاکی ٹیم نے جنوبی افریقا کو شکست دیکر ورلڈکپ میں 11ویں پوزیشن حاصل کرلی RSN میاں حمزہ فضل کا کرکٹ کے فروغ کے لیے شاندار اقدام — کینٹ زون ٹی ٹوئنٹی کلب کرکٹ ٹورنامنٹ کی مکمل اسپانسر شپ کا اعلان RSN پنجاب میں مون سون بارشوں کا نیا اسپیل، اہم علاقوں کیلئے الرٹ جاری RSN فیلڈ مارشل کا دفاعی صنعتی کمپلیکس کا دورہ، مقامی سطح پر تیار ہتھیاروں اور گولہ بارود کے تجربات کا مشاہدہ RSN امریکی صدر ٹرمپ کا وینزویلا کیساتھ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے تیل کے معاہدے کا اعلان RSN عثمان وزیر کی اگلی انٹرنیشنل فائٹ 26 ستمبر کو تھائی لینڈ میں ہوگی RSN اردوان اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ، ترک صدر نے کھری کھری سنادی RSN
تازہ خبریں

آپ کے جسم میں پانی کی کتنی کمی ہے؟ آسان ٹیسٹ سے جانیے

7 • 03 Jul 2026

پانی ہماری صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے اور خاص طور پر گرم موسم میں جسم میں اس سیال کی کمی بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

پیاس کا احساس ہمارے جسم کا ایسا ذریعہ ہے جو بتاتا ہے کہ اسے پانی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنا کام درست طریقے سے کرسکے۔ ڈی ہائیڈریشن کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے جسم کو پانی کی کمی کا سامنا ہو رہا ہے اور اسے اپنے معمول کے افعال کے لیے مناسب مقدار میں پانی دستیاب نہیں۔ پیاس کے علاوہ ڈی ہائیڈریشن کی دیگر علامات میں پیشاب کی گہری رنگت، معمول سے کم پیشاب آنا، منہ خشک ہونا، جِلد خشک ہونا، تھکاوٹ یا سر چکرانے کا احساس اور سر درد شامل ہیں۔ مگر جب جسم میں پانی کی کمی ہو اور پیاس محسوس نہ ہو رہی ہو تو آپ اس کے بارے میں کیسے جان سکتے ہیں؟ درحقیقت یہ زیادہ مشکل نہیں آپ کی جِلد اس بارے میں بتا سکتی ہے۔ جی ہاں ایک بہت آسان ٹیسٹ سے آپ چند سیکنڈ میں جان سکتے ہیں کہ جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار تو نہیں ہو رہا۔ ہماری جِلد لچکدار ہوتی ہے اور جسم میں پانی کی کمی سے جِلد کی لچک متاثر ہوتی ہے تو آپ آسانی سے اس بارے میں معلوم کرسکتے ہیں۔ 2007 میں ایمرجنسی میڈیکل جرنل میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا۔ اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جِلد کی ساخت اور لچک پر پانی کی کمی سے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ آسان ٹیسٹ ڈی ہائیڈریشن کے بارے میں بتانے میں کسی حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ٹیسٹ کے لیے اپنے ہاتھ کی پشت کی جِلد کو چٹکی میں چند سیکنڈ تک دبا کر رکھیں اور پھر چھوڑ دیں، اگر وہ فوری طور پر اصل شکل میں واپس چلی جائے تو آپ کے جسم میں مناسب مقدار میں پانی موجود ہے، اگر جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو تو جلد کو معمول کی ساخت میں واپس جانے کے لیے کچھ زیادہ وقت لگتا ہے۔ البتہ یہ خیال رہے کہ بڑھاپے میں جِلد کی لچک قدرتی طور پر گھٹ جاتی ہے تو ان میں جِلد کو معمول کی شکل میں واپس آنے میں 20 سیکنڈ بھی لگ سکتے ہیں البتہ زیادہ وقت لگے تو پھر انہیں پانی پی لینا چاہیے۔
More News