امریکی ریاست میزوری میں شدید بارش کے بعد سیلابی صورتحال، رہائشی علاقے پانی میں ڈوب گئے، ایمرجنسی نافذ RSN پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اورگورننگ باڈی میں اختلافات، آزاد کشمیر انتخابات بائیکاٹ پر پی ٹی آئی تاحال فیصلہ نہ کرسکی RSN ناروےکے اسٹار فٹبالر ارلنگ ہالینڈ سے مشابہت نے روسی ماڈل کی قسمت بدل دی RSN شہید رہنما سید علی خامنہ ای اور تمام شہدا کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، ایرانی سپریم لیڈر RSN وفاقی کابینہ میں ردو بدل اور نوجوان و نئے چہروں کی شمولیت کا امکان، وزیراعظم نے قریبی رفقاء سے مشاورت مکمل کرلی RSN سرگودھا میں رشتہ دار نے 6 سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا RSN گیت ’خسارہ‘ کا خیال اُس وقت آیا جب اسکی کوئی شاعری بھی نہیں تھی بس ذہن میں ٹون تھی: عبد الحنان RSN شادی کا فیصلہ میرا تھا، اس معاملے میں کسی کو الزام نہیں دے سکتی: میرا سیٹھی RSN فیلڈ مارشل عاصم منیرکی ترک صدر سے ملاقات، پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرگفتگو RSN پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس پر کیوں نہیں؟ فیصل قریشی نے وجہ بتا دی RSN
تازہ خبریں

آپ کے جسم میں پانی کی کتنی کمی ہے؟ آسان ٹیسٹ سے جانیے

7 • 03 Jul 2026

پانی ہماری صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے اور خاص طور پر گرم موسم میں جسم میں اس سیال کی کمی بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

پیاس کا احساس ہمارے جسم کا ایسا ذریعہ ہے جو بتاتا ہے کہ اسے پانی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنا کام درست طریقے سے کرسکے۔ ڈی ہائیڈریشن کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے جسم کو پانی کی کمی کا سامنا ہو رہا ہے اور اسے اپنے معمول کے افعال کے لیے مناسب مقدار میں پانی دستیاب نہیں۔ پیاس کے علاوہ ڈی ہائیڈریشن کی دیگر علامات میں پیشاب کی گہری رنگت، معمول سے کم پیشاب آنا، منہ خشک ہونا، جِلد خشک ہونا، تھکاوٹ یا سر چکرانے کا احساس اور سر درد شامل ہیں۔ مگر جب جسم میں پانی کی کمی ہو اور پیاس محسوس نہ ہو رہی ہو تو آپ اس کے بارے میں کیسے جان سکتے ہیں؟ درحقیقت یہ زیادہ مشکل نہیں آپ کی جِلد اس بارے میں بتا سکتی ہے۔ جی ہاں ایک بہت آسان ٹیسٹ سے آپ چند سیکنڈ میں جان سکتے ہیں کہ جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار تو نہیں ہو رہا۔ ہماری جِلد لچکدار ہوتی ہے اور جسم میں پانی کی کمی سے جِلد کی لچک متاثر ہوتی ہے تو آپ آسانی سے اس بارے میں معلوم کرسکتے ہیں۔ 2007 میں ایمرجنسی میڈیکل جرنل میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا۔ اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جِلد کی ساخت اور لچک پر پانی کی کمی سے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ آسان ٹیسٹ ڈی ہائیڈریشن کے بارے میں بتانے میں کسی حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ٹیسٹ کے لیے اپنے ہاتھ کی پشت کی جِلد کو چٹکی میں چند سیکنڈ تک دبا کر رکھیں اور پھر چھوڑ دیں، اگر وہ فوری طور پر اصل شکل میں واپس چلی جائے تو آپ کے جسم میں مناسب مقدار میں پانی موجود ہے، اگر جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو تو جلد کو معمول کی ساخت میں واپس جانے کے لیے کچھ زیادہ وقت لگتا ہے۔ البتہ یہ خیال رہے کہ بڑھاپے میں جِلد کی لچک قدرتی طور پر گھٹ جاتی ہے تو ان میں جِلد کو معمول کی شکل میں واپس آنے میں 20 سیکنڈ بھی لگ سکتے ہیں البتہ زیادہ وقت لگے تو پھر انہیں پانی پی لینا چاہیے۔
More News