کتا تو کتا ہی ہوتا ہے
11 • 03 Jul 2026
KASHIF NADEEM
انگریزی کی ایک کہاوت ہے کہ "جو کتے بھونکتے ہیں، وہ کاٹتے نہیں۔" اب یہ کہاوت ہے یا کتوں کی یونین کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز، اس کا فیصلہ میں نہیں کر سکتا۔ البتہ میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ کتا، اگر واقعی کتا ہو، تو وہ پہلے بھی بھونک سکتا ہے، بعد میں بھی کاٹ سکتا ہے اور بعض اوقات بغیر کسی پیشگی نوٹس کے سیدھا دانتوں کی جمہوریت نافذ کر دیتا ہے۔ اس لیے کہاوت کو کہاوت ہی سمجھیے، کیونکہ کتا تو آخر کتا ہی ہوتا ہے۔ہمارے معاشرے میں کتے کے بارے میں جتنی رائے پائی جاتی ہے، شاید کسی سیاست دان، شاعر یا کرکٹ ٹیم کے بارے میں بھی نہ پائی جاتی ہو۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ کتا وفادار جانور ہے، دوسری طرف یہی بھی سننے کو ملتا ہے کہ "گھر کی کتی چوروں سے ملی ہوئی ہے۔" اب اگر ایک ہی خاندان میں وفاداری اور سازش اکٹھی رہ سکتی ہیں تو پھر انسانوں سے شکوہ کیسا؟کتا شاید دنیا کا واحد جانور ہے جس پر محاوروں کی اتنی سرمایہ کاری ہوئی ہے کہ اگر ہر محاورے کا رائلٹی ملنا شروع ہو جائے تو آج ہر گلی کا کتا ایک پلاٹ کا مالک ہوتا۔ کہیں "کتے کی دم" سیدھی نہیں ہوتی، کہیں "کتا گھاس نہیں کھاتا"، کہیں "کتے بھونکتے رہتے ہیں، قافلہ چلتا رہتا ہے" اور کہیں "کتے کی موت مرنا" جیسا محاورہ۔ بیچارہ کتا اگر اردو زبان کا مقدمہ عدالت میں لے جائے تو شاید کئی لغات ضبط ہو جائیں۔ویسے ایک سوال مجھے ہمیشہ پریشان کرتا ہے کہ آخر کتوں نے انسانوں کا کیا بگاڑا تھا؟ ہم نے اپنی ہر بری عادت، ہر بے ہودہ حرکت اور ہر ناپسندیدہ کردار کے لیے کسی نہ کسی موقع پر کتے کو ضرور گھسیٹ لیا۔ انسان دھوکا دے تو کہتے ہیں "کتے پن پر اتر آیا۔" کوئی احسان فراموش نکلے تو کہتے ہیں "کتا نکلا۔" حالانکہ سچ پوچھیں تو کتے کی برادری آج تک اس الزام کی تردید میں کوئی پریس کانفرنس بھی نہیں کر سکی۔
یہ بھی مشہور ہے کہ کتا بڑا وفادار جانور ہوتا ہے۔ اس دعوے کے حق میں ہزاروں واقعات سنائے جاتے ہیں۔ کہیں مالک کی قبر پر بیٹھا ہے، کہیں برسوں انتظار کرتا رہا، کہیں جان بچا لی۔ لیکن مجھے اس جملے میں ہمیشہ ایک خاموش سا اعتراض سنائی دیتا ہے۔ آخر ہم انسان اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے کتے کی مثال کیوں دیتے ہیں؟ کیا ہماری اپنی وفاداری کا کوئی معیار باقی نہیں رہا؟ اگر تعریف کرنی ہی ہے تو یوں کیوں نہ کہیں کہ "فلاں آدمی انسانوں جیسی وفاداری رکھتا ہے۔" مگر شاید مسئلہ یہی ہے کہ ایسی مثالیں کم رہ گئی ہیں، اس لیے مجبوراً کتے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ہمارے بزرگ ایک اور بات بھی کہہ گئے کہ کتے سے نہیں، اس کے کتا ہونے سے ڈرو۔ یہ جملہ پہلی نظر میں فلسفہ معلوم ہوتا ہے، دوسری نظر میں تجربہ اور تیسری نظر میں اخبار کی سرخی۔ کیونکہ دنیا میں اکثر مسئلہ شکل کا نہیں، کردار کا ہوتا ہے۔ بعض لوگ سوٹ بوٹ میں ایسے ملتے ہیں کہ ان کے سامنے گلی کا آوارہ کتا بھی تہذیب کا سفیر دکھائی دیتا ہے۔ اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن کے ہاتھ میں تسبیح، زبان پر اخلاق اور دل میں ایسی گرہیں ہوتی ہیں کہ کتا بھی انہیں دیکھ کر سوچتا ہوگا کہ بدنام تو ہمیں ہی کیا گیا ہے۔پھر مذہبی روایات میں بھی کتے کا ذکر ملتا ہے۔ کہیں اس کی موجودگی سے متعلق احکام بیان ہوتے ہیں، کہیں ایک کتے کو پانی پلانے والے کی مغفرت کا تذکرہ ہے اور کہیں ایک ایسے کتے کا ذکر ہے جسے نیک لوگوں کی نسبت نے عزت بخشی۔ اس سے کم از کم یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ اصل قدر نہ صرف صورت کی ہے، نہ نسل کی، بلکہ عمل اور نسبت کی بھی ہے۔ انسان اگر اس ایک نکتے کو سمجھ لے تو شاید اسے دوسروں کو کتا کہنے کی فرصت ہی نہ ملے۔مگر ہمارے معاشرے میں کتے سے زیادہ مقبول چیز اگر کوئی ہے تو وہ کتے کا بچہ ہے۔ جس کتے کو دیکھ کر لوگ راستہ بدل لیتے ہیں، اسی کے ننھے سے بچے کو گود میں اٹھا کر تصویریں بنواتے ہیں، اس کے لیے دودھ خریدتے ہیں اور سوشل میڈیا پر لکھتے ہیں: "سو کیوٹ!" یہی حال شاید انسانوں کا بھی ہے۔ بچپن میں ہر کوئی معصوم لگتا ہے، بڑے ہوتے ہوتے دنیا کی گرد شخصیت پر ایسی جمتی ہے کہ معصومیت کہیں گم ہو جاتی ہے۔سرائیکی کے ایک شاعر نے کہا تھا:
تیڈے (ا۔ب ج) آ کتے کھیر پیندن
انسان دے بال ہِن بھوک مردن
یہ دو مصرعے صرف کتوں کا ذکر نہیں کرتے بلکہ ہمارے معاشرے کے الٹے ترازو کی تصویر بناتے ہیں، جہاں کبھی کبھی وسائل ضرورت مند سے زیادہ نمائش پر خرچ ہوتے ہیں۔ کتے پر اعتراض نہیں، ترجیحات پر سوال ہے۔اور پھر پطرس بخاری یاد آتے ہیں، جنہوں نے کتوں کو محض جانور نہیں، ایک ادبی کردار بنا دیا۔ ان کے ہاں کتا صرف بھونکتا نہیں، قاری کو بھی ہنساتا ہے۔ یہی اصل مزاح ہے کہ آپ کسی جانور کے بہانے انسان کو آئینہ دکھا دیں اور آئینہ دیکھنے والا پہلے ہنسے، پھر ذرا سا شرما بھی جائے۔خیر، کتوں پر گفتگو ابھی ختم کہاں ہوئی ہے۔ یہ ایسا موضوع ہے کہ اگر کوئی یونیورسٹی "شعبۂ کتاشناسی" قائم کر دے تو ہمارے معاشرے سے اتنا تحقیقی مواد جمع ہو جائے کہ پی ایچ ڈی کے مقالے بھی دم ہلاتے نظر آئیں۔
مجھے تو کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان نے کتے کو سمجھنے سے زیادہ اسے اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا ہے۔ جب کسی کی تعریف کرنی ہو تو کہتے ہیں، "کتے جیسا وفادار ہے۔" جب کسی پر غصہ آئے تو کہتے ہیں، "کتا ہے۔" گویا کتا بھی سوچتا ہوگا کہ آخر میرا اصل تعارف کیا ہے؟ وفادار ہوں یا گالی؟
یہ عجیب انصاف ہے کہ اچھا کام بھی میرے کھاتے میں اور برا کام بھی میرے کھاتے میں۔ہمارے دیہات میں ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ "کتے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کتا ہونے کا ڈھونگ نہیں کرتا، وہ واقعی کتا ہوتا ہے۔" اس وقت تو یہ جملہ ہماری سمجھ سے باہر تھا، لیکن اب معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اشارہ انسانوں کی طرف تھا۔ آج کل اصل مسئلہ کتے نہیں، بھیس ہیں۔ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیے کا محاورہ تو سب نے سنا، مگر اب تو بعض لوگ انسان کی کھال میں ایسے ایسے کردار لیے پھرتے ہیں کہ بھیڑیا بھی شرما جائے۔سوشل میڈیا نے تو کتوں کی قسمت ہی بدل دی ہے۔ پہلے کتے گلیوں میں بھونکتے تھے، اب انسان موبائل پر۔ پہلے ایک کتا دوسرے کتے کو دیکھ کر شور مچاتا تھا، اب ایک پوسٹ دیکھ کر ہزاروں لوگ تبصرے شروع کر دیتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کتے چند منٹ بعد خاموش ہو جاتے ہیں، انسان کئی کئی دن تک ایک دوسرے کی پوسٹوں پر دانت دکھاتے رہتے ہیں۔مجھے ایک صاحب ملے۔ فرمانے لگے: "میں جانوروں سے بہت محبت کرتا ہوں۔"میں نے پوچھا: "انسانوں سے بھی؟"کہنے لگے: "وہ الگ موضوع ہے۔" میں نے دل ہی دل میں کہا، یہی تو اصل موضوع ہے۔آج کل بعض لوگوں کے گھروں میں کتے کی سالگرہ باقاعدہ کیک کاٹ کر منائی جاتی ہے۔ کتے کے لیے الگ بستر، الگ ڈاکٹر، الگ شیمپو، الگ کپڑے۔ ادھر محلے کا غریب بچہ سکول کی فیس کے لیے دربدر پھرتا ہے۔ مجھے کتے پر اعتراض نہیں، کیونکہ اس نے تو کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ میری سالگرہ پر پانچ پونڈ کا کیک لاؤ۔ یہ سب انسان کی اپنی ترجیحات ہیں۔ کتے کو تو ایک روٹی بھی خوش کر دیتی ہے، مسئلہ انسان کی نمائش کا ہے۔ایک زمانہ تھا جب لوگ کہتے تھے، "فلاں آدمی شیر ہے۔"اب حالات یہ ہیں کہ لوگ کہتے ہیں، "فلاں بڑا خطرناک ہے۔" شیر بیچارہ جنگل میں رہ گیا، خطرناک مخلوق شہروں میں آباد ہو گئی۔
یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ کتے اپنی حدود پہچانتے ہیں۔ ہر گلی کا ایک کتا ہوتا ہے، دوسرے علاقے میں جائے تو پہلے سوچتا ہے۔ انسان وہ واحد مخلوق ہے جو دوسرے کے معاملات، دوسرے کے گھر، دوسرے کی کمائی، دوسرے کی شادی، دوسرے کی اولاد، حتیٰ کہ دوسرے کی قبر تک میں اپنی رائے دینا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ اگر کتوں کی پارلیمنٹ ہوتی تو وہ انسانوں کے بارے میں قرارداد منظور کرتے: "یہ مخلوق ہمارے نام کا بے جا استعمال بند کرے۔"پھر ایک کمیٹی بنتی، جس کا سربراہ کوئی بوڑھا جرمن شیفرڈ ہوتا۔ وہ پریس کانفرنس میں کہتا:"ہمیں بدنام کرنا بند کیا جائے۔ جس شخص نے دھوکا دیا، وہ انسان تھا؛ جس نے رشوت لی، وہ انسان تھا؛ جس نے جھوٹ بولا، وہ انسان تھا؛ پھر ہر جگہ کتے کو کیوں گھسیٹا جاتا ہے؟"سچ تو یہ ہے کہ اگر انصاف کی ترازو سیدھی رکھی جائے تو کتوں کے خلاف انسانوں کی زبان سب سے بڑا مقدمہ بن سکتی ہے۔پطرس بخاری نے کتوں پر لکھتے ہوئے دراصل انسانوں کی نفسیات بیان کی تھی۔ بڑے ادیب جانوروں کو موضوع نہیں بناتے، جانوروں کے پردے میں انسانوں کی خبر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اچھی طنز پڑھ کر آدمی پہلے ہنستا ہے، پھر اچانک اسے محسوس ہوتا ہے کہ ہنسی کا رخ تو اس کی اپنی طرف تھا۔
اور یہی ادب کا اصل کمال ہے۔ویسے میں نے ایک بات بڑی غور سے دیکھی ہے کہ کتا اپنی حیثیت کبھی نہیں بھولتا، لیکن انسان اکثر اپنا مرتبہ بھول جاتا ہے۔ کتا اگر دروازے پر بیٹھا ہے تو اسے معلوم ہے کہ وہ رکھوالی کر رہا ہے، مگر بعض انسان کرسی پر بیٹھتے ہی سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید دنیا کی گردش بھی ان کے دستخط سے ہوتی ہے۔ اقتدار کی کرسی کا ایک عجیب وصف ہے؛ اس پر بیٹھنے والا اکثر آئینہ دیکھنا چھوڑ دیتا ہے اور صرف تالیاں سننا پسند کرتا ہے۔چاپلوسی بھی ایک دلچسپ فن ہے۔ پہلے یہ فن درباروں تک محدود تھا، اب ہر دفتر، ہر ادارے، ہر تنظیم اور ہر سیاسی جماعت میں اس کے باقاعدہ تربیتی مراکز قائم معلوم ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے دم صرف کتوں کی ہلتی تھی، اب بعض انسانوں کی زبانیں بھی دم کا کام دیتی ہیں۔ جہاں مفاد دکھائی دیا، فوراً لہجہ بدل گیا، چہرہ کھل گیا اور تعریفوں کے پھول ایسے برسنے لگے جیسے برسوں سے یہی انتظار تھا۔
محلے کا کتا کم از کم ایک ہی دروازے کا وفادار رہتا ہے۔ ہمارے ہاں بعض لوگ ہر نئے دروازے پر پرانی وفاداری اتار کر نئی پہن لیتے ہیں۔ کل جس کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے تھے، آج اسی کے خلاف ایسی تقریریں ہو رہی ہوتی ہیں کہ سننے والا حیران رہ جائے۔ اس وقت مجھے ہمیشہ یہی خیال آتا ہے کہ بیچارا کتا اپنی وفاداری کے سبب مشہور ہوا اور انسان اپنی مفاد پرستی کے سبب۔ایک بزرگ نے کہا تھا: "کتے کو روٹی دو تو وہ دروازہ یاد رکھتا ہے، انسان کو عہدہ دو تو وہ سیڑھی بھول جاتا ہے۔" اس جملے میں طنز کم اور تجربہ زیادہ ہے۔سیاست کا بھی کتوں سے ایک عجیب تعلق ہے۔ انتخابی موسم آئے تو ہر امیدوار عوام کے دروازے پر اس عاجزی سے آتا ہے جیسے برسوں کا گمشدہ رشتہ دار ہو۔ بچے کو گود میں اٹھا لیتا ہے، بزرگ کے ہاتھ چوم لیتا ہے، بیمار کی عیادت کر لیتا ہے، حتیٰ کہ گلی کے کتے کو بھی پیار کر لیتا ہے۔ لیکن کامیابی کے بعد اگر وہی ووٹر مل جائے تو پہلے محافظ پوچھتا ہے، "آپ کون ہیں؟"
میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ گلی کا کتا بول سکتا تو شاید کہتا: "صاحب! ووٹ لینے کے دن تو آپ نے میرے سر پر بھی ہاتھ پھیرا تھا، اب نظریں کیوں چرا رہے ہیں؟"کتوں کی ایک خوبی اور بھی ہے؛ وہ اپنی برادری میں منافقت کم کرتے ہیں۔ اگر ناراض ہیں تو کھل کر بھونکتے ہیں، اگر خوش ہیں تو دم ہلاتے ہیں۔ انسان نے اس معاملے میں بڑی ترقی کی ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ، دل میں حساب، زبان پر دعا اور ذہن میں منصوبہ۔ سامنے تعریف، پیچھے تعارف۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کتا خاموشی سے انسان کو دیکھتا ہوگا اور دل ہی دل میں کہتا ہوگا: "بھائی! بدنام تو مجھے ہی کیا گیا۔"محاوروں کا بھی اپنا مزاج ہوتا ہے۔ "کتے کی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی" ہم سب نے سنا ہے، مگر کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر دم سیدھی ہو بھی جائے تو کتے کو اس سے کیا فائدہ؟ اصل مسئلہ دم کا نہیں، مزاج کا ہے۔ یہی بات انسان پر بھی صادق آتی ہے۔ لباس بدل لینے سے کردار نہیں بدلتا، عہدہ مل جانے سے ظرف نہیں بڑھتا اور خطاب لگ جانے سے علم پیدا نہیں ہو جاتا۔آج کل ایک نئی قسم کے کتے بھی وجود میں آ گئے ہیں۔ یہ چار ٹانگوں والے نہیں بلکہ دو ٹانگوں والے ہیں، مگر گھبرائیے نہیں، میں کسی انسان کو کتا نہیں کہہ رہا۔ میرا مطلب صرف اتنا ہے کہ بعض رویے ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر پرانے محاورے خود کو دہرانے لگتے ہیں۔ کسی کا ضمیر ہڈی دیکھ کر جاگ جاتا ہے، کسی کی رائے لفافہ دیکھ کر بدل جاتی ہے، کسی کی غیرت عہدہ دیکھ کر سو جاتی ہے۔ ایسے میں قصور نہ کتے کا ہے نہ محاورے کا، قصور صرف ہمارے اعمال کا ہے۔پطرس بخاری اگر آج زندہ ہوتے تو شاید "کتے" کے مضمون کا دوسرا حصہ ضرور لکھتے، مگر اس بار انہیں گلیوں میں زیادہ گھومنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ وہ کسی ٹی وی ٹاک شو، کسی انتخابی جلسے، کسی سوشل میڈیا کی بحث یا کسی دفتر کی میٹنگ میں بیٹھ کر ہی اتنا مواد اکٹھا کر لیتے کہ کئی مضامین تیار ہو جاتے۔یوں لگتا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے، مگر تمثیلیں ابھی تک زندہ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے انسان کتے کو دیکھ کر محاورہ بناتا تھا، اب بعض اوقات محاورہ انسان کو دیکھ کر خود بخود یاد آ جاتا ہے۔آخر میں پھر وہیں لوٹتے ہیں جہاں سے بات شروع ہوئی تھی۔کہتے ہیں جو کتے بھونکتے ہیں، وہ کاٹتے نہیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ اس کہاوت کو کہاوت ہی رہنے دیجیے، کیونکہ بعض اوقات خاموش رہنے والے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے زخم دانتوں سے نہیں، مسکراہٹوں سے لگتے ہیں۔ بہت سے حملے بھونکنے کے بعد نہیں بلکہ گلے ملنے کے بعد ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر شور سے ڈرنا ضروری نہیں اور ہر خاموشی پر بھروسا کرنا بھی دانش مندی نہیں۔پھر وہ جملہ یاد آتا ہے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ یہ بھی درست ہوگا، مگر اس جملے پر خوش ہونے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہیے۔ اگر وفاداری کی مثال دینے کے لیے بھی ہمیں انسان نہیں ملتا اور کتے کا سہارا لینا پڑتا ہے تو مسئلہ کتے کا نہیں، ہماری معاشرت کا ہے۔ایک اور کہاوت ہے کہ کتے سے نہیں، اس کے کتا ہونے سے ڈریے۔ میں اس میں ایک چھوٹی سی ترمیم کرنا چاہوں گا۔ آج کل ڈر کتے سے کم اور انسان کے اندر چھپے اس رویے سے زیادہ لگتا ہے جو موقع ملتے ہی جاگ اٹھتا ہے۔ جب لالچ ضمیر پر غالب آ جائے، جب اقتدار اخلاق کو نگل جائے، جب مفاد رشتوں سے بڑا ہو جائے، تب مسئلہ جانور کا نہیں رہتا، انسان کا ہو جاتا ہے۔پھر وہ بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ گھر کی کتی چوروں سے ملی ہوئی ہے۔ اس محاورے کی عمر شاید صدیوں پرانی ہوگی، مگر اس کی تازگی آج بھی برقرار ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب چور بھی جدید ہیں اور خبر دینے والے بھی۔ پہلے نقب رات کو لگتی تھی، اب بعض اوقات دن کی روشنی میں لگتی ہے اور لوگ تالیاں بھی بجاتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک اور عجیب تضاد بھی ہے۔ ایک طرف ہم کتے کو ناپاک کہہ کر راستہ بدل لیتے ہیں، دوسری طرف جھوٹ، فریب، رشوت، خیانت، منافقت اور وعدہ خلافی کو اتنی صفائی سے گلے لگا لیتے ہیں جیسے یہ معاشرتی آداب ہوں۔ شاید اسی لیے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم جانوروں سے زیادہ اپنے رویوں کی صفائی کے محتاج ہیں۔مجھے ہمیشہ یہ بات دلچسپ لگتی ہے کہ کتا اپنی فطرت نہیں بدلتا۔ وہ اگر خوش ہے تو دم ہلائے گا، اگر ناراض ہے تو بھونکے گا، اگر خطرہ محسوس کرے گا تو خبردار کرے گا۔ مگر انسان نے ارتقا کی ایسی منزل طے کر لی ہے کہ وہ ہنستے ہوئے بھی حسد کر سکتا ہے، تعریف کرتے ہوئے بھی سازش کر سکتا ہے اور مصافحہ کرتے ہوئے بھی وار کی تیاری رکھ سکتا ہے۔ پھر بھی بدنام کتا ہے۔یہ دنیا شاید جانوروں سے کم اور انسانوں کے کرداروں سے زیادہ چلتی ہے۔ اس لیے میری گزارش صرف اتنی ہے کہ اگلی بار کسی کو "کتا" کہنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے رک جائیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اصل بے عزتی کتے کی ہو رہی ہو۔پطرس بخاری اگر آج ہمارے درمیان ہوتے تو شاید اپنے مضمون کا ایک نیا باب لکھتے اور فرماتے کہ "کتوں کو انسانوں سے کوئی شکایت نہیں تھی، جب تک انسانوں نے اپنے عیب ان کے کھاتے میں ڈالنے شروع نہیں کیے تھے۔"
سرائیکی شاعر کا وہ شعر بھی پھر کانوں میں گونجتا ہے:
تیڈے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آ کتے کھیر پیندن انسان دے بال ہِن بھوک مردن
۔اس شعر میں کتے پر طنز نہیں، ہماری ترجیحات پر طنز ہے۔ اصل سوال ہمیشہ یہی رہے گا کہ ہم نے محبت، وسائل، عزت اور توجہ کس کے حصے میں لکھی ہے۔خیر... بات بہت دور نکل گئی۔ ہم تو صرف ایک کتے کا ذکر کرنے بیٹھے تھے، مگر معلوم ہوا کہ ہر گلی، ہر دفتر، ہر بازار، ہر ادارے، ہر جلسے اور ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انسان اپنے اپنے کرداروں کے ساتھ موجود ہے۔ کتا تو اب بھی وہی ہے؛ نہ اس نے کوئی تقریر کی، نہ پریس کانفرنس، نہ تردیدی بیان جاری کیا۔ وہ آج بھی دروازے پر بیٹھا ہے، کبھی بھونک لیتا ہے، کبھی دم ہلا لیتا ہے اور کبھی خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔اور ہم؟ہم آج بھی اس کے نام پر اپنے کردار چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس لیے میری ناقص رائے میں انگریزی کی کہاوت، اردو کے محاورے، بزرگوں کی نصیحتیں اور شاعروں کے اشعار سب اپنی جگہ درست ہوں گے، مگر ایک بات طے ہے...کتا آخر کتا ہی ہوتا ہے... مگر انسان کو ہر حال میں انسان ہی رہنا چاہیے۔