امریکی ریاست میزوری میں شدید بارش کے بعد سیلابی صورتحال، رہائشی علاقے پانی میں ڈوب گئے، ایمرجنسی نافذ RSN پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اورگورننگ باڈی میں اختلافات، آزاد کشمیر انتخابات بائیکاٹ پر پی ٹی آئی تاحال فیصلہ نہ کرسکی RSN ناروےکے اسٹار فٹبالر ارلنگ ہالینڈ سے مشابہت نے روسی ماڈل کی قسمت بدل دی RSN شہید رہنما سید علی خامنہ ای اور تمام شہدا کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، ایرانی سپریم لیڈر RSN وفاقی کابینہ میں ردو بدل اور نوجوان و نئے چہروں کی شمولیت کا امکان، وزیراعظم نے قریبی رفقاء سے مشاورت مکمل کرلی RSN سرگودھا میں رشتہ دار نے 6 سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا RSN گیت ’خسارہ‘ کا خیال اُس وقت آیا جب اسکی کوئی شاعری بھی نہیں تھی بس ذہن میں ٹون تھی: عبد الحنان RSN شادی کا فیصلہ میرا تھا، اس معاملے میں کسی کو الزام نہیں دے سکتی: میرا سیٹھی RSN فیلڈ مارشل عاصم منیرکی ترک صدر سے ملاقات، پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرگفتگو RSN پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس پر کیوں نہیں؟ فیصل قریشی نے وجہ بتا دی RSN
تازہ خبریں

ذہنی ہیجڑے

11 • 02 Jul 2026

Kashif Nadeem

اگر کسی قوم کی سوچ کو ایکسپائری ڈیٹ لگ سکتی تو ہمارے ہاں کئی ذہن مدت پہلے واپس کمپنی کو بھیجے جا چکے ہوتے۔ عجیب معاشرہ ہے؛ یہاں لوگ دودھ خریدنے سے پہلے اس کی تاریخِ تنسیخ ضرور دیکھتے ہیں، مگر خیالات خریدتے وقت کبھی نہیں پوچھتے کہ یہ خیال کس صدی کا ہے، کس نے بنایا ہے اور اس کی میعاد کب ختم ہوئی۔ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں دماغ استعمال کرنے سے زیادہ محفوظ کام دماغ کرائے پر دینا سمجھا جاتا ہے۔ اپنی رائے رکھنے والا مشکوک، سوال کرنے والا گستاخ، دلیل دینے والا مغرور اور ہر بات پر "جی بالکل" کہنے والا نہایت مہذب انسان قرار پاتا ہے۔میں نے ایک صاحب سے پوچھا: "آپ فلاں بات کے حق میں کیوں ہیں؟"کہنے لگے: "کیونکہ ہمارے سارے لوگ اسی کے حق میں ہیں۔" میں نے عرض کیا: "اگر کل سارے لوگ اس کے خلاف ہو جائیں؟"مسکرا کر بولے: "پھر میں بھی خلاف ہو جاؤں گا۔ آخر اکیلا کیوں بدنام ہوں؟"اس جواب نے مجھے بتایا کہ ہمارے ہاں بہت سے لوگ نظریات نہیں رکھتے، بلکہ نظریات کے موسمی کپڑے پہنتے ہیں۔ گرمی آئے تو ایک سوچ، سردی آئے تو دوسری، اور اقتدار بدلے تو تیسری۔یہاں ہر شخص آزادیِ اظہار کا علمبردار ہے، بشرطیکہ اظہار اس کی پسند کے مطابق ہواختلافِ رائے کی تعریف سب کرتے ہیں، لیکن اختلاف کرنے والے کو برداشت بہت کم لوگ کرتے ہیں۔سوشل میڈیا نے ایک نئی نسل پیدا کر دی ہے۔ یہ نسل ہر خبر پر تبصرہ کرتی ہے، خواہ خبر پڑھی ہو یا نہیں۔ عنوان دیکھتے ہی فیصلے صادر ہو جاتے ہیں۔ ویڈیو شروع ہونے سے پہلے رائے بن جاتی ہے اور ختم ہونے سے پہلے فتویٰ۔ایک صاحب روزانہ پانچ پوسٹیں کرتے ہیں: "تحقیق کریں، سچ جانیں۔" میں نے ایک دن پوچھ لیا: "آپ نے یہ خبر کہاں سے لی؟"فرمانے لگے: "مجھے کسی نے واٹس ایپ پر بھیجی تھی، اس لیے سچی ہی ہوگی۔"میں نے کہا: "یعنی آپ تحقیق کا درس بھی افواہ کے ذریعے دیتے ہیں!"ہم عجیب لوگ ہیں۔ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو اس کی ڈگری دیکھتے ہیں، لیکن سیاست، مذہب، تاریخ اور معیشت کے معاملے میں ہر وہ شخص ہمارا استاد بن جاتا ہے جس کی آواز اونچی اور اعتماد مضبوط ہو۔ہمارے معاشرے میں دلیل سے زیادہ آواز کی قدر ہے۔ جو جتنا زور سے بولے، اتنا ہی بڑا دانشور سمجھا جاتا ہے۔ یوںمحسوس ہوتا ہے جیسے سچائی کا تعلق عقل سے نہیں بلکہ مائیک کے سائز سے ہو۔تعلیم کا حال بھی دلچسپ ہے۔ بچے کو پہلے دن سے بتایا جاتا ہے کہ استاد کی ہر بات درست ہے، کتاب میں غلطی نہیں ہو سکتی، نصاب پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا اور امتحان میں وہی لکھنا ہے جو رٹایا گیا ہے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نوجوان سوال کیوں نہیں کرتے۔حقیقت یہ ہے کہ سوال دبانے والے معاشرے، جواب پیدا نہیں کرتے۔ہم نے کتابیں ضرور بڑھا لیں، لیکن مطالعہ کم کر دیا۔ ڈگریاں بڑھا لیں، مگر دانائی نہیں یونیورسٹیاں کھول دیں، مگر مکالمہ بند کر دیا۔ایک بزرگ فرمانے لگے: "بیٹا! زیادہ سوچا نہ کرو، آدمی پریشان ہو جاتا ہے۔" میں نے عرض کیا: "حضرت! کم سوچنے کا نتیجہ ہم کئی دہائیوں سے بھگت رہے ہیں۔"وہ خاموش ہو گئے، اور مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ خاموشی بھی کبھی کبھی دلیل سے زیادہ بلند آواز رکھتی ہے۔ یہی ذہنی بانجھ پن ہے؛ جب انسان سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی سوچنے کی زحمت نہ کرے، جب وہ ہر رائے مستعار لے، ہر فیصلہ دوسروں کے سپرد کر دے اور ہر غلطی کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہرائے۔ ایسے معاشرے میں ترقی کی رفتار نہیں، صرف تقریروں کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں دو قسم کے لوگ بہت کامیاب ہیں۔ ایک وہ جو کچھ جانتے ہیں مگر خاموش رہتے ہیں، دوسرے وہ جو کچھ نہیں جانتے مگر مسلسل بولتے رہتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پہلی قسم کے لوگ دوسری قسم سے ڈرنے لگے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب بزرگ کہتے تھے: "بیٹا! پہلے سوچو، پھر بولو۔"اب زمانہ کہتا ہے: "پہلے پوسٹ کرو، بعد میں اگر غلط نکلے تو لکھ دینا کہ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا۔" میں نے ایک دوست سے پوچھا: "یار! تم ہر روز اپنی رائے کیوں بدل لیتے ہو؟" کہنے لگا: "زمانے کے ساتھ چلنا چاہیے۔" میں نے کہا: "زمانے کے ساتھ چلنا اور ہر گھنٹے بعد یو ٹرن لینا دو الگ چیزیں ہیں۔"وہ مسکرا کر بولا: "اصولوں سے پیٹ نہیں بھرتا۔"میں نے دل میں کہا کہ ہمارے ہاں پیٹ بھرنے کے لیے لوگ اصول بیچ دیتے ہیں اور پھر اصولوں پر لیکچر بھی دیتے ہیں۔کچھ لوگوں کی یادداشت بھی کمال کی ہوتی ہے۔ انہیں دوسروں کی دس سال پرانی غلطی یاد رہتی ہے مگر اپنی کل والی بات بھول جاتی ہے۔ ایسے لوگ اگر کبھی آئینہ دیکھ لیں تو یقیناً آئینے پر بھی الزام لگا دیں کہ "یہ تصویر پرانی دکھا رہا ہے۔"ہمارے ایک جاننے والے ہر تقریب میں دانشور بن جاتے ہیں۔ شادی میں خاندان کے نظام پر لیکچر، جنازے میں فلسفۂ حیات، اسکول میں تعلیمی اصلاحات اور چائے کی دکان پر عالمی معیشت کا پوسٹ مارٹم۔ ایک دن میں نے پوچھا: "بھائی! آپ کا اصل شعبہ کیا ہے؟"کہنے لگے: "اصل میں میں ہر موضوع پر تھوڑا تھوڑا جانتا ہوں۔"میں نے کہا: "پھر تو آپ ہر موضوع پر تھوڑا تھوڑا غلط بھی جانتے ہوں گے۔" بات ختم ہو گئی، مگر چائے ٹھنڈی ہو گئی۔ہم نے مطالعہ چھوڑ کر سرخیاں پڑھنا شروع کر دیں۔ سرخیاں چھوڑ کر میمز دیکھنے لگے، اور میمز دیکھ کر خود کو تجزیہ نگار سمجھنے لگے۔ آج کل پانچ منٹ کی ویڈیو دیکھنے والا شخص پچاس سال کے محقق کو سمجھانے بیٹھ جاتا ہے کہ "اصل تاریخ تو آپ نے پڑھی ہی نہیں۔"عجیب اعتماد ہے! معلومات آدھے کپ کی، یقین سمندر جتنا۔ہمارے معاشرے کا ایک اور دلچسپ کردار "ہر فن مولا چچا" ہیں۔ انہیں زکام ہو تو ڈاکٹر کو علاج بتاتے ہیں، گاڑی خراب ہو تو مکینک کو مشورہ دیتے ہیں، استاد پڑھا رہا ہو تو نصاب کی خامیاں گنواتے ہیں، اور اگر جہاز میں بیٹھ جائیں تو شاید پائلٹ کو بھی راستہ سمجھا دیں۔ایسے لوگوں کی خود اعتمادی دیکھ کر کبھی کبھی لگتا ہے کہ اگر انہیں چاند پر بھیج دیا جائے تو وہاں جا کر بھی کہیں گے: "اصل مسئلہ یہ ہے کہ چاند کی انتظامیہ کمزور ہے۔" ہمارے ہاں اختلاف دلیل سے نہیں، تعلق سے طے ہوتا ہے۔ اگر بات اپنا آدمی کرے تو اسے بصیرت کہتے ہیں، اور اگر وہی بات مخالف کر دے تو اسے سازش قرار دے دیا جاتا ہے۔ہم شخصیتوں کے عاشق ہیں، اصولوں کے نہیں۔ اگر ہمارا پسندیدہ شخص غلطی کرے تو کہتے ہیں: "آخر انسان ہے، غلطی ہو جاتی ہے۔"اور اگر ناپسندیدہ شخص صحیح بات بھی کر دے تو فوراً کہتے ہیں: "اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایجنڈا ضرور ہے۔" یہ ذہنی بانجھ پن کی سب سے واضح علامت ہے کہ ہم دلیل کو نہیں، بولنے والے کو تولتے ہیں۔ایک استاد نے کلاس میں پوچھا: "بتاؤ! سب سے خطرناک جہالت کون سی ہے؟" ایک طالب علم بولا: "سر! پڑھا لکھا جاہل۔"استاد نے پوچھا: "کیوں؟" اس نے جواب دیا: "کیونکہ ان پڑھ جاہل کم از کم اپنی جہالت تسلیم کر لیتا ہے، مگر پڑھا لکھا جاہل اپنی ہر غلط بات کو حوالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔" پوری کلاس ہنس دی، مگر مجھے لگا جیسے یہ جملہ ہنسی سے زیادہ افسوس کا مستحق ہے۔ذہنی بانجھ پن صرف سوچ کا مسئلہ نہیں، کردار کا بھی مسئلہ ہے۔ جب آدمی سچ جان کر بھی خاموش رہے، غلط کو غلط کہنے سے ڈرے، اور ہر طاقتور کے سامنے اپنی رائے گروی رکھ دے، تو سمجھ لیجیے کہ اس کا ذہن نہیں، اس کی ہمت بھی بانجھ ہو چکی ہے۔اور پھر یہی لوگ شام کو بیٹھ کر قوم کے زوال پر آہیں بھی بھرتے ہیں، جیسے زوال کسی اور گلی سے آیا ہو اور ان کے دروازے پر غلطی سے رک گیا ہو۔ آخر میں مجھے یہی کہنا ہے کہ ذہنی بانجھ پن کسی ڈگری کی کمی کا نام نہیں، بلکہ سوچنے سے انکار کا نام ہے۔ یہ بیماری اس وقت جنم لیتی ہے جب آدمی اپنی عقل کو تالہ لگا کر چابی کسی اور کی جیب میں رکھ دیتا ہے۔ پھر وہ وہی دیکھتا ہے جو اسے دکھایا جائے، وہی سنتا ہے جو اسے سنایا جائے اور وہی بولتا ہے جو اسے بولنے کی اجازت دی جائے۔ایسے لوگوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ کبھی غلط نہیں ہوتے، کیونکہ وہ کبھی اپنی رائے رکھتے ہی نہیں۔ آج اگر ایک طرف کھڑے ہوں تو پورے اخلاص سے اسی طرف کے دلائل دیں گے، اور کل اگر ہوا کا رخ بدل جائے تو اسی اخلاص سے مخالف سمت میں کھڑے نظر آئیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں اپنی اس تبدیلی پر شرمندگی بھی نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ اسے "حالات کے مطابق دانش مندی" کا نام دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے معاشرے میں ایسے کردار روزانہ ملتے ہیں۔ دفتر میں، بازار میں، ٹی وی پر، سوشل میڈیا پر، تعلیمی اداروں میں، حتیٰ کہ ادبی نشستوں میں بھی۔ وہاں لوگ شعر کم اور شاعر زیادہ پڑھتے ہیں، دلیل کم اور تعلق زیادہ دیکھتے ہیں، حق کم اور مفاد زیادہ تولتے ہیں۔ ہم ہر سال نئی پالیسیاں بنا لیتے ہیں، نئے نعرے ایجاد کر لیتے ہیں، نئے وعدے سن لیتے ہیں، مگر جب تک سوچنے کی عادت پیدا نہیں ہوگی، نہ نظام بدلے گا، نہ معاشرہ۔ قومیں نعروں سے نہیں، سوال کرنے والے ذہنوں سے بنتی ہیں۔ یہ بھی عجیب المیہ ہے کہ ہم بچوں کو چلنا سکھاتے ہیں، بولنا سکھاتے ہیں، لکھنا سکھاتے ہیں، مگر سوچنا نہیں سکھاتے۔ انہیں رٹنے کا ہنر مل جاتا ہے، مگر پرکھنے کی صلاحیت نہیں ملتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر ہر بات دہرا تو لیتے ہیں، مگر اس پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے اگر واقعی ہم اپنے معاشرے کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنی سوچ کا احتساب کرنا ہوگا۔ ہر خبر پر یقین کرنے سے پہلے تحقیق، ہر نعرے پر تالیاں بجانے سے پہلے غور، اور ہر اختلاف کو دشمنی سمجھنے سے پہلے مکالمہ سیکھنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے اس کالم کی کسی بات سے آپ اختلاف کریں۔ اگر ایسا ہے تو مجھے خوشی ہوگی، کیونکہ اختلاف زندہ ذہن کی علامت ہے۔ ڈر تو اس دن سے لگتا ہے جب پورا معاشرہ بغیر سوچے ایک ہی جملہ دہرانے لگے۔ آخر میں صرف اتنا ہی... خدا اس قوم کو دولت بھی دے، شہرت بھی دے، ترقی بھی دے، مگر سب سے پہلے اسے سوچنے کی ہمت عطا کرے۔ کیونکہ بانجھ زمین پر کبھی کبھار بارش سے فصل اگ بھی جاتی ہے، لیکن بانجھ ذہن پر اگر سوالوں کی بارش نہ برسے تو وہاں صرف تعصب، اندھی تقلید اور خود فریبی کی جھاڑیاں ہی اُگتی رہتی ہیں۔ سوچتے رہیے، سوال کرتے رہیے، دلیل سنتے رہیے اور اپنی رائے بدلنے سے کبھی نہ گھبرائیے—مگر صرف اس وقت، جب دلیل آپ سے زیادہ مضبوط ہو، نہ کہ اس وقت جب ہوا کا رخ بدل جائے۔ شاید اسی دن ہم ذہنی بانجھ پن سے نکل کر ایک ایسے معاشرے کی طرف قدم بڑھا سکیں گے جہاں اختلاف دشمنی نہیں، علم کا آغاز سمجھا جائے۔
More News