"رہنے کے لیے سب سے بہترین جگہ اپنی اوقات ہی ہے"
11 • 15 Jun 2026
کاشف ندیم
اس جہانِ رنگ و بو میں قیام گاہوں کی کمی نہیں۔ کوئی محل سرا میں فروکش ہے، کوئی کوٹھی کو اپنی شان سمجھتا ہے، کوئی فلیٹ کی چہار دیواری میں عافیت ڈھونڈتا ہے اور کوئی کرائے کے مکان میں اس انداز سے رہتا ہے گویا مکان مالک پر احسان فرما رہا ہو۔ مگر بندۂ ناچیز نے عمر بھر کے مشاہدات، تجربات، ٹھوکروں، دھکوں، خوش فہمیوں اور بدگمانیوں کے نشیب و فراز طے کرنے کے بعد ایک نہایت قیمتی نکتہ دریافت کیا ہے کہ آدمی کے لیے سب سے پُرسکون، سب سے محفوظ اور سب سے کشادہ جائے قیام اگر کوئی ہے تو وہ اپنی اوقات ہے۔
جی ہاں، وہی اوقات جس کا نام سنتے ہی بعض حضرات کے چہروں پر ایسے آثار نمودار ہو جاتے ہیں جیسے کسی نے ان کے آبائی محل کی رجسٹری منسوخ کر دی ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اوقات کوئی دشنام نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے؛ اور آئینہ بھی ایسا کہ جس میں آدمی خود کو ویسا ہی دیکھتا ہے جیسا وہ فی الواقع ہوتا ہے، نہ جیسا خود کو سمجھتا ہے اور نہ جیسا دوسروں کو باور کرانا چاہتا ہے۔
ہمارے ایک نہایت عزیز دوست ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے حوصلوں کو سلامت رکھے، اس لیے کہ ان کی آمدنی اور ان کی تمناؤں کے درمیان وہی نسبت ہے جو پرنالے اور آبشار میں ہوتی ہے۔ تنخواہ ان کی ایسی ہے کہ مہینے کے آخری ایام میں جیب کے اندر ہوائیں سیٹیاں بجاتی پھرتی ہیں، لیکن ارمان ایسے کہ گویا نصف دنیا کے خزانے انہی کے تصرف میں ہوں۔
ایک روز فرمانے لگے:
"میاں! ارادہ ہے کہ ایک مختصر سا فارم ہاؤس خرید لیا جائے۔"
عرض کیا: "مختصر سے آپ کی مراد کیا ہے؟"
فرمانے لگے: "بس کوئی دس بارہ ایکڑ کا قطعۂ زمین ہو۔"
ہم نے کہا: "حضور! پہلے دس بارہ مرلے کی تمنا تو پوری فرما لیجیے، پھر ایکڑوں کی سلطنت کا خواب دیکھیے۔"
اس پر موصوف خفا ہو گئے، گویا ہم نے ان کی سلطنتِ خیالی پر شب خون مار دیا ہو۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ آج کل لوگوں کو اپنی اوقات سے زیادہ دوسروں کی حیثیت میں دلچسپی ہے۔ ہر شخص اپنی چادر سے باہر پاؤں نکال کر اس زعم میں مبتلا ہے کہ شاید چادر ہی پھیل جائے گی۔
سوشل میڈیا نے اس مرض کو وبا بنا دیا ہے۔ پہلے لوگ اپنی حیثیت کے مطابق زندگی گزارتے تھے، اب اپنی پروفائل تصویر کے مطابق جینے لگے ہیں۔
ایک صاحب کی تصویر دیکھی۔ چشمۂ سیاہ آنکھوں پر، قیمتی ساعت کلائی میں، دراز قامت گاڑی عقب میں اور چہرے پر ایسی فاتحانہ مسکراہٹ کہ گویا ابھی ابھی کسی بین الاقوامی ادارے کے سربراہ منتخب ہوئے ہوں۔
بعد میں معلوم ہوا کہ چشمہ دوست کا، گھڑی سالے کی، گاڑی شوروم کی اور تصویر فوٹوگرافر کی تھی۔
صرف صاحب اپنی جگہ اصل تھے۔
ہم نے دریافت کیا: "حضور! یہ کیا ماجرا ہے؟"
فرمانے لگے: "پرسنل برانڈنگ!"
عرض کیا: "قبلہ! یہ برانڈنگ کم اور خوش فہمی کی ہول سیل دکان زیادہ معلوم ہوتی ہے۔"
شادی بیاہ کی تقریبات میں تو اوقات سے بغاوت ایک مستقل تہذیبی فریضہ بن چکی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ شادی خوشی کا نام تھی، اب مالی خودکشی کی تقریب معلوم ہوتی ہے۔ قرض لے کر ایسی ایسی ضیافتیں اڑائی جاتی ہیں کہ اگر حساب کی کتاب کھولی جائے تو دلہن کی رخصتی سے پہلے عقل رخصت ہو چکی ہوتی ہے۔
لوگ پوچھتے ہیں: "اتنا خرچ کیوں؟"
جواب ملتا ہے: "لوگ کیا کہیں گے؟"
عجیب بات ہے! یہ "لوگ" ایسی مخلوق ہیں جن کے خوف میں آدمی اپنی جمع پونجی لٹا دیتا ہے، حالانکہ یہی لوگ اگلے ہفتے کسی اور کی برائی میں مشغول ہوتے ہیں۔
دفاتر کا عالم بھی دل چسپ ہے۔ ایک معمولی سا کلرک اپنے آپ کو کم از کم وزارتِ خارجہ کا مستقل مشیر سمجھتا ہے۔ فائل مانگیے تو انداز ایسا ہوتا ہے جیسے اقوامِ عالم کے مستقبل کا فیصلہ اسی کاغذ میں پوشیدہ ہو۔
ایک دفتر میں ایک صاحب کو بڑی تمکنت سے چلتے دیکھا۔ ہم نے سمجھا شاید ادارے کے مالک ہیں۔ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ چپڑاسی ہیں۔
عرض کیا: "حضور! یہ جلال کیسا؟"
فرمانے لگے: "عزت خود بنانی پڑتی ہے۔"
ہم نے کہا: "بے شک، مگر عزت اور غلط فہمی میں ایک باریک سا فرق بھی ہوتا ہے۔"
سیاست کے میدان میں تو اوقات نامی پرندہ مدت ہوئی ہجرت کر چکا۔ جو شخص اپنے محلے کی کمیٹی کا انتخاب نہ جیت سکے، وہ ملک بچانے کے نسخے تجویز کر رہا ہے۔ جو اپنے گھر کے چار افراد کو ایک میز پر جمع نہ رکھ سکے، وہ قومی اتحاد کے وعظ فرما رہا ہے۔
الغرض ہر طرف ایک عجیب کشمکش برپا ہے۔ ہر شخص اپنے قد سے دو بالشت اونچا نظر آنے کی کوشش میں ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ آرام سے کھڑا ہو پاتا ہے، نہ سکون سے بیٹھ پاتا ہے۔
حالانکہ زندگی کا اصل لطف اسی میں ہے کہ آدمی اپنی حیثیت پہچانے، اپنے وسائل کو سمجھے اور اپنی اوقات میں رہنے کو توہین نہیں بلکہ نعمت جانے۔
جو شخص اپنی اوقات میں رہنا سیکھ لیتا ہے، وہ حسد کی آگ سے بھی محفوظ رہتا ہے اور مقابلے کی دوڑ سے بھی۔ اسے نہ پڑوسی کی نئی گاڑی بے چین کرتی ہے، نہ عزیز کی نئی کوٹھی، نہ دوست کی ترقی اور نہ رشتہ دار کی شہرت۔
کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر آدمی کا سفر جدا ہے، ہر ایک کی منزل الگ ہے اور ہر شخص کا نصیب اس کے اپنے حصے میں لکھا گیا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ اپنی اوقات ایک ایسی رہائش گاہ ہے جہاں نہ قبضہ مافیا کا خوف ہے، نہ کرائے کا جھگڑا، نہ بجلی کے بل کا رونا اور نہ اقساط کی قسطوں کا ماتم۔
بس ایک شرط ہے کہ آدمی حقیقت کے دروازے سے داخل ہو، عاجزی کی کھڑکیاں کھلی رکھے اور خواہشات کی غیر قانونی تعمیرات سے پرہیز کرے۔
ورنہ انجام وہی ہوتا ہے جو اکثر دیکھا گیا ہے؛ آدمی دوسروں کی دنیا میں مکان تعمیر کرنے نکلتا ہے اور آخرکار اپنی ہی دنیا سے بے دخل ہو جاتا ہے۔
لہٰذا اگر زندگی میں سکون مطلوب ہو، دل کا اطمینان عزیز ہو اور رات کی نیند قیمتی معلوم ہوتی ہو تو دنیا بھر کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اشتہار ایک طرف رکھیے اور اپنے باطن کے آئینے میں جھانکیے۔
کیونکہ دنیا کی سب سے آرام دہ، سب سے پائیدار اور سب سے باوقار رہائش گاہ آج بھی وہی ہے جس کا پتہ ہمارے بزرگ مدت پہلے لکھ گئے تھے
"رہنے کے لیے سب سے بہترین جگہ اپنی اوقات ہی ہے"