ہارٹ اٹیک و فالج کے 99 فیصد کیسز کن 4 خطرناک عوامل سے جڑے ہیں؟تحقیق سامنے آگئی
7 • 14 Jun 2026
ہائی بلڈ پریشر سب سے بڑا خطرہ قرار، کولیسٹرول، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی بھی جان لیوا عوامل میں شامل
ایک بڑی عالمی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دل کے دورے اور فالج کے تقریباً 99 فیصد کیسز چار بڑے اور قابلِ کنٹرول خطرناک عوامل سے جڑے ہوئے ہیں، جن میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی شامل ہیں۔
ماہرین کی جانب سے کی گئی اس وسیع تحقیق میں دنیا بھر سے تقریباً 90 لاکھ افراد کے طبی ریکارڈ اور صحت سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوا، جو دل کے دورے اور فالج کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کیسز کا سبب بنتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ خون میں کولیسٹرول کی زیادہ مقدار شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کا باعث بنتی ہے، جس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور دل کے دورے یا فالج کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح ذیابیطس کے مریضوں میں خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، جو قلبی بیماریوں کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی بھی شریانوں کے لیے انتہائی تباہ کن عادت ہے۔ تمباکو نوشی خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے، خون گاڑھا کرتی ہے اور دل پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے، جس کے نتیجے میں دل اور دماغ دونوں متاثر ہوسکتے ہیں۔
تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ دل کے دورے یا فالج کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد میں ان چار میں سے ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد خطرناک عوامل موجود تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب یہ عوامل ایک ساتھ موجود ہوں تو بیماری کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
صحت کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا، ذیابیطس کا بروقت علاج کرانا، سگریٹ نوشی ترک کرنا اور متوازن غذا و ورزش کو معمول بنانا دل اور دماغ کی جان لیوا بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
تحقیق کے نتائج نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا کر دل کے دورے اور فالج جیسے مہلک امراض کے خطرات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔