تمام ریجنز کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کی بحالی — پاکستان کرکٹ کے روشن مستقبل کی نوید
11 • 24 Jul 2026
تحریر: عابد حسین
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جسے بلا مبالغہ حالیہ برسوں کا ایک نہایت مثبت، دور اندیش اور کرکٹ دوست اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف ملک بھر کے ریجنز میں نئی امید پیدا کی ہے بلکہ ہزاروں نوجوان کرکٹرز کے خوابوں کو بھی نئی زندگی بخشی ہے۔
گزشتہ ڈومیسٹک سیزن میں قائداعظم ٹرافی میں صرف دس ریجنز کی ٹیموں کو شرکت کا موقع دیا گیا تھا، جس کے باعث متعدد ریجنز اور ان سے وابستہ باصلاحیت کھلاڑی فرسٹ کلاس کرکٹ کے پلیٹ فارم سے محروم رہے۔ اس صورتحال پر کرکٹ حلقوں کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا، کیونکہ پاکستان جیسے باصلاحیت ملک میں مواقع کو محدود کرنا مستقبل کے اسٹارز کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بار زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے قائداعظم ٹرافی کے ڈھانچے میں اہم تبدیلی کی ہے۔ نئے فارمیٹ کے تحت ٹورنامنٹ کو قائداعظم ٹرافی گولڈ اور قائداعظم ٹرافی سلور دو درجوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ گولڈ کیٹیگری میں گزشتہ سیزن کی بہترین دس ٹیمیں حصہ لیں گی، جبکہ سلور کیٹیگری میں بارہ ریجنز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا۔
اگرچہ مقابلوں کو دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ پاکستان کے تمام ریجنز کو دوبارہ فرسٹ کلاس کرکٹ کے نظام میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ علاقائی کرکٹ کو مضبوط بنانے، میرٹ کو فروغ دینے اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
اس فیصلے کی ایک اور خوش آئند بات یہ ہے کہ لاہور اور کراچی کی طرح اب پہلی مرتبہ سیالکوٹ اور پشاور ریجن کی بھی دو، دو ٹیمیں فرسٹ کلاس کرکٹ میں حصہ لیں گی۔ اس سے ان ریجنز میں صحت مند مقابلے کی فضا قائم ہوگی، کھلاڑیوں کے لیے مواقع میں اضافہ ہوگا اور مقامی سطح پر کرکٹ کا معیار مزید بہتر ہوگا۔
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کبھی کمی نہیں رہی، کمی صرف مواقع کی رہی ہے۔ جب نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے ہی ریجن سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے گا تو دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے بے شمار باصلاحیت کرکٹرز بھی قومی دھارے میں شامل ہوں گے۔ یہی نوجوان مستقبل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کا نام روشن کریں گے۔
بلاشبہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ اقدام صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے مستقبل میں کی جانے والی ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اس نئے نظام کے ذریعے نہ صرف ڈومیسٹک کرکٹ مزید مضبوط ہوگی بلکہ قومی ٹیم کے لیے باصلاحیت، تجربہ کار اور معیاری کھلاڑیوں کی ایک وسیع کھیپ بھی تیار ہوگی۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے فیصلوں کو تسلسل، شفافیت اور میرٹ کے ساتھ آگے بڑھایا جائے، کیونکہ مضبوط ڈومیسٹک ڈھانچہ ہی مضبوط قومی ٹیم کی بنیاد ہوتا ہے