کیا 18 سال کا نوجوان ووٹ دینے کے قابل نہیں؟
11 • 21 Jan 2026
تحریر: عادل علی
حالیہ دنوں سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ 18 سال کی عمر کے نوجوان ووٹ ڈالنے کی اہلیت نہیں رکھتے، کیونکہ اس عمر میں ان کے پاس مطلوبہ سیاسی شعور نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ مؤقف فکری اور دانشورانہ دکھائی دیتا ہے، مگر جب اسے عملی سیاست اور ریاستی نظام کے تناظر میں پرکھا جائے تو یہ دلیل اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔
اگر واقعی 18 سال کا نوجوان سیاسی فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: پھر سیاستدانوں کے کم عمر بچے پارٹیوں کے اہم عہدوں تک کیسے پہنچ جاتے ہیں؟ وہ انتخابی مہمات کی قیادت کیسے کرتے ہیں، پالیسی معاملات میں اثر انداز کیسے ہوتے ہیں اور قومی سیاست میں فیصلہ کن کردار کیسے ادا کر لیتے ہیں؟ اگر شعور شرط ہے تو وہ عام نوجوان پر ہی کیوں لاگو ہوتی ہے اور مخصوص طبقے کے لیے کیوں نظر انداز کر دی جاتی ہے؟
یہ تضاد صرف سیاست تک محدود نہیں۔ ریاست خود اسی 18 سالہ نوجوان کو سرکاری ملازمت کے لیے اہل سمجھتی ہے۔ وہ فوج، پولیس اور دیگر حساس اداروں میں بھرتی ہو سکتا ہے، جہاں اس کے فیصلے نہ صرف اس کی اپنی بلکہ دوسروں کی جانوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر ایک نوجوان ریاست کے دفاع، قانون کے نفاذ اور قومی سلامتی جیسے نازک معاملات میں ذمہ داری اٹھا سکتا ہے تو یہ کہنا کہ وہ ووٹ ڈالنے جیسے بنیادی شہری حق کا اہل نہیں، عقل اور منطق کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ عام انتخابات 2024 میں نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد نے تحریکِ انصاف کے حق میں ووٹ دیا۔ اسی سیاسی حقیقت کے بعد ووٹ ڈالنے کی عمر 25 سال کرنے کی تجویز سامنے آئی۔ بظاہر اسے آئینی اصلاح کا نام دیا جا رہا ہے، مگر درحقیقت یہ عوامی رائے سے فرار کی ایک کوشش محسوس ہوتی ہے۔ اگر اقتدار میں موجود قوتیں نوجوانوں کے اعتماد سے محروم ہیں تو اس کا حل ووٹ کے حق کو محدود کرنا نہیں، بلکہ اپنی سیاست، طرزِ حکمرانی اور عوامی رابطے کو بہتر بنانا ہے۔
یہ سوچ ایک خطرناک مثال بھی قائم کر سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں ایک طبقے کے شعور پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو یہ سلسلہ کسی ایک حد پر نہیں رکتا۔ آج نوجوانوں کی اہلیت زیرِ سوال ہے، کل یہی دلیل خواتین یا دیگر طبقات کے حقِ رائے دہی کے خلاف بھی استعمال کی جا سکتی ہے، جیسا کہ ماضی میں مختلف معاشروں میں ہو چکا ہے۔ جمہوریت حقوق سلب کرنے سے نہیں بلکہ شہریوں پر اعتماد قائم کرنے سے مضبوط ہوتی ہے۔
دنیا کی ترقی یافتہ جمہوریتیں، خصوصاً امریکہ اور یورپ، نوجوانوں کو کم عمری ہی سے سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں شامل کرتی ہیں۔ طلبہ یونینز، مباحثے، کمیونٹی سروس اور رضاکارانہ سرگرمیاں ان کی سیاسی تربیت کا ذریعہ بنتی ہیں۔ وہاں نوجوانوں کا سیاست میں حصہ لینا باعثِ اعتراض نہیں بلکہ جمہوری تسلسل کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں سیاست کو رفتہ رفتہ مخصوص خاندانوں تک محدود کیا جا رہا ہے، جہاں عام نوجوان کے لیے اس میدان میں جگہ بنانا دن بہ دن مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
تاریخ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ فیصلہ کن عنصر عمر نہیں بلکہ شعور، کردار اور تربیت ہوتے ہیں۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ کو کم عمری میں لشکر کی قیادت سونپی گئی، محمد بن قاسم نے نوجوانی میں برصغیر کی تاریخ کا رخ موڑ دیا، سکندرِ اعظم اور نپولین نے جوانی میں عظیم فتوحات حاصل کیں۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ نوجوانی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے موقع دیا جائے۔
ایک معروف کہاوت کے مطابق عمر کے ساتھ عقل مند کی دانائی میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ نادان کی نادانی مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ مسئلہ عمر کا نہیں بلکہ نیت، تربیت اور مواقع کا ہے۔ اگر نوجوانوں کو سیاسی عمل سے باہر رکھا گیا تو اس کا نتیجہ جمہوری کمزوری، فکری جمود اور سماجی بے چینی کی صورت میں نکلے گا۔
قومیں نوجوانوں کو آواز دے کر ترقی کرتی ہیں اور انہیں خاموش کر کے زوال کی راہ اختیار کرتی ہیں۔ ووٹر کی عمر بڑھانا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ عوامی رائے دہی سے دانستہ فرار کی ایک واضح کوشش ہے