انڈے کے خول: پودوں کی بہتر نشوونما کا قدرتی اور مؤثر ذریعہ

10 • 14 Jan 2026

انڈے کے خول، جو عموماً کھانے کے بعد ضائع کر دیے جاتے ہیں، درحقیقت پودوں کی نگہداشت میں نہایت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان میں موجود معدنی اجزا، بالخصوص کیلشیم، پودوں کی بہتر نشوونما اور مٹی کی ساخت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

قدرتی کھاد کے طور پر استعمال: انڈے کے خول کو اچھی طرح صاف کر کے خشک کریں، پھر انہیں باریک پیس کر مٹی میں شامل کر دیں۔ یہ عمل مٹی کو آہستہ آہستہ کیلشیم فراہم کرتا ہے، جس سے پودوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ کیڑوں سے تحفظ کے لیے: پیسے ہوئے یا کرش شدہ خول پودوں کے گرد بکھیرنے سے نرم جسم والے کیڑے، جیسے گھونگھے اور سلگز، پودوں کے قریب آنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ خول کی نوکدار سطح ان کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ۔ بیج بونے کے لیے خول کا استعمال: انڈے کے خول کو نصف کر کے اس میں مٹی بھر کر بیج بوئے جا سکتے ہیں۔ جب پودا مضبوط ہو جائے تو خول سمیت اسے زمین میں منتقل کر دیں، جس سے خول آہستہ آہستہ تحلیل ہو کر مٹی میں غذائی اجزا شامل کرتا ہے۔ ۔ کمپوسٹ میں شمولیت: اگر خول کو براہِ راست مٹی میں شامل کرنا مناسب نہ ہو تو انہیں کمپوسٹ میں ڈال دیا جائے۔ کمپوسٹ کے عمل کے دوران خول تحلیل ہو کر مٹی کے لیے فائدہ مند غذائیت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پودوں کے لیے غذائی پانی: خشک اور پسے ہوئے انڈے کے خول پانی میں بھگو کر غذائیت سے بھرپور پانی تیار کیا جا سکتا ہے، جو ہفتے میں ایک بار پودوں کو دیا جائے تو بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انڈے کے خول استعمال کرنے سے پہلے انہیں اچھی طرح صاف اور خشک کرنا ضروری ہے تاکہ بدبو یا جراثیم پیدا نہ ہوں۔ ایسے پودے جنہیں تیزابی مٹی پسند ہو، ان کے لیے خول کا زیادہ استعمال مناسب نہیں۔