جس کی لاٹھی اس کا تیل

11 • 06 Jan 2026

علی حسن بلوچ

وینزویلا کے دارالحکومت میں رات کے اندھیرے میں ہونے والی کارروائی نے عالمی سیاست کے ماتھے پر ایک ایسا زخم لگایا ہے جس نے "بین الاقوامی قانون" کے لبادے کو تار تار کر دیا ہے۔ ایک ملک کے منتخب صدر کو، خواہ وہ کتنا ہی متنازع کیوں نہ ہو، ایک دوسری عالمی طاقت کی جانب سے اغوا کر لینا اور پھر وہاں کے قدرتی وسائل پر بلا جھجھک قبضے کا دعویٰ کرنا، جدید تاریخ میں "جنگل کے قانون" کی واپسی کا باقاعدہ اعلان ہے۔ یہ محض ایک ملک کا المیہ نہیں، بلکہ ان تمام ترقی پذیر ریاستوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو اپنی کمزور معیشت اور بٹی ہوئی سیاست کے ساتھ عالمی بساط پر زندہ رہنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر آج وینزویلا کا تیل "ری ایمبرسمنٹ" (ہرجانے) کے نام پر نکالا جا سکتا ہے، تو کل کسی بھی ملک کے معدنیات، بندرگاہیں یا زرعی زمینیں اسی منطق کے تحت قبضے میں لی جا سکتی ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ہماری صورتحال اس شخص جیسی ہے جو اپنے گھر کی دیواریں گرتے دیکھ کر اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ شاید پڑوسی اسے پناہ دے دے گا۔ اردو ادب کے مایہ ناز مزاح نگار پطرس بخاری نے کبھی کہا تھا کہ "ہم وہ قوم ہیں جو خطرے کا سامنا کرنے کے بجائے اس پر بحث کرنا پسند کرتے ہیں"۔ آج پاکستان جس موڑ پر کھڑا ہے، وہاں ہماری جمہوریت محض ایک ایسی عمارت نظر آتی ہے جس کا سنگِ بنیاد تو عوام نے رکھا، لیکن اس کی چھت اور دیواروں کی مرمت کا ٹھیکہ ہمیشہ غیر ملکی ٹھیکیداروں کے پاس رہا ہے۔ ہم خود مختاری کا نعرہ تو بلند کرتے ہیں، لیکن ہماری جیب میں پڑا ہاتھ اکثر آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے تلے دبا ہوتا ہے۔ یہ کیسی خود مختاری ہے جہاں سانس لینے کے لیے بھی ہمیں واشنگٹن یا بیجنگ کی طرف دیکھنا پڑتا ہے؟ ہمارے حکمران طبقے کا حال اس مغل شہزادے جیسا ہے جو قلعے کے اندر تو ظلِ الٰہی ہے، مگر قلعے کے باہر ایسٹ انڈیا کمپنی کے کارندوں کو سلام کرنے پر مجبور ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 1953ء میں ایران کے محمد مصدق کو صرف اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ انہوں نے ایرانی تیل کو قومیانے کی "جرات" کی تھی۔ سی آئی اے کا "آپریشن ایجیکس" آج کے وینزویلا آپریشن کا دادا جان معلوم ہوتا ہے۔ پھر ہم نے چلی میں سالواڈور ایلندے کا انجام دیکھا، عراق میں "تباہی کے پھیلانے والے ہتھیاروں" کا وہ جھوٹ دیکھا جس نے ایک ہنستے بستے ملک کو کھنڈر بنا دیا، اور لیبیا میں معمر قذافی کا وہ حشر دیکھا جو افریقہ کے لیے اپنی کرنسی لانا چاہتے تھے۔ ان تمام واقعات میں قدرِ مشترک ایک ہی تھی: جس نے بھی ڈالر کے غلبے یا مغربی مفادات کو چیلنج کیا، اسے جمہوریت کی بحالی یا دہشت گردی کے خاتمے کے خوبصورت ناموں تلے کچل دیا گیا۔ واشنگٹن کی جمہوریت اب اس اسٹیج پر ہے جہاں وہ پوری دنیا کو ایک "رئیلٹی شو" سمجھتی ہے، جہاں ایلیمنیشن کا بٹن صرف ان کے پاس ہے۔ امریکی جمہوریت، جسے دنیا بھر میں ایک آئیڈیل کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، اب ایک ایسے "ہائپر پاور" کے روپ میں ڈھل چکی ہے جو اخلاقیات سے زیادہ اپنے مفادات کو مقدم رکھتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں 'حق' اسی کا ہے جس کے پاس 'طاقت' ہے۔ مشتاق احمد یوسفی نے شاید ایسی ہی صورتحال کے لیے کہا تھا کہ "مردہ ضمیر انسانوں کی بستی میں قانون صرف کمزوروں کے گرد گھیرا ڈالنے کے کام آتا ہے"۔ امریکہ نے وینزویلا کا تیل نکالنے کے لیے جس عجلت کا مظاہرہ کیا، وہ اس "نیو امپیریل ازم" کی نشانی ہے جہاں اب جمہوریت کا بہانا بنانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ یہ ایک ایسی "جمہوریت" ہے جو دوسروں کے گھروں میں تالے توڑ کر داخل ہوتی ہے اور پھر میزبان کو ہی کرایہ دار بنا دیتی ہے۔ پاکستان کو درپیش مشکلات محض بیرونی نہیں، بلکہ ہماری اپنی پیدا کردہ ہیں۔ ہم نے برسوں سے اپنی معیشت کو قرضوں کے وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا ہے۔ جب ریاستیں اپنی بنیادی ضروریات کے لیے دوسروں کی محتاج ہو جاتی ہیں، تو ان کے فیصلے ان کے اپنے نہیں رہتے۔ میر تقی میر کے ایک شعر میں تھرٹی تبدیلی کے ساتھ ہماری حالت کچھ یوں بنتی ہے کہ "لگتا نہیں ہے جی میرا اجڑے دیار میں، کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں"۔ ہماری سیاست میں سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ پارلیمان میں عوامی مسائل سے زیادہ ذاتی حملوں پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ سرحدوں کے باہر دنیا کا نقشہ بدلا جا رہا ہے۔ ہم آج بھی اس انتظار میں ہیں کہ کوئی دوسرا آئے اور ہمارا گھر ٹھیک کر دے، جبکہ دنیا ہمیں صرف ایک ایسی مارکیٹ کے طور پر دیکھتی ہے جہاں سے سستے مزدور اور مہنگے سود لیے جا سکیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وینزویلا کے واقعے کو ایک اتفاق سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے اپنی صفوں کو درست کریں۔ اگر ہم نے اپنی معیشت کو مستحکم نہ کیا اور اپنی داخلی سیاست سے تماشے کو ختم نہ کیا، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ یاد رکھیے، عالمی طاقتیں کسی کی دوست نہیں ہوتیں، وہ صرف اپنے مفاد کی پجاری ہوتی ہیں۔ آج واشنگٹن کی مصاحبت میں اترانے کے بجائے ہمیں اپنی 'آبرو' یعنی اپنی خود مختاری کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ہوگا۔ ورنہ تماشائی بن کر دوسروں کا نوحہ پڑھنے والوں کا اپنا نوحہ پڑھنے والا بھی کوئی نہیں ملتا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب ہاتھی لڑتے ہیں تو گھاس کچلی جاتی ہے، اور اس وقت ہم گھاس کی صف میں شامل ہیں۔