توشہ خانہ: طاقت، تحفے اور قومی یادداشت

11 • 21 Dec 2025

علی حسن بلوچ

پاکستان کی سیاست میں کچھ معاملات ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے بلکہ ہر چند سال بعد نئے رنگ، نئی شدت اور نئے کرداروں کے ساتھ واپس آ جاتے ہیں۔ توشہ خانہ بھی انہی معاملات میں سے ایک ہے۔ یہ محض ایک سرکاری ادارہ یا تحائف رکھنے کا کمرہ نہیں بلکہ طاقت، اختیار، نیت اور قانون کی تشریح کا ایسا استعارہ ہے جو ہر دور میں اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے۔ حالیہ عدالتی فیصلے نے ایک بار پھر توشہ خانہ کو قومی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ اس بار کس کو سزا ملی، بلکہ یہ ہے کہ ہم بطور ریاست اور معاشرہ اس کہانی سے کیا سیکھتے ہیں، اگر واقعی کچھ سیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ توشہ خانہ کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ بیرونی دنیا سے ملنے والے تحائف کسی فرد کی نہیں بلکہ ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں۔ یہ تصور بظاہر سادہ اور معقول ہے، مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں ریاست اور حکومت، حکومت اور فرد، اور فرد اور طاقت کے درمیان سرحدیں ہمیشہ دھندلی رہی ہیں، وہاں یہ سادگی کبھی برقرار نہ رہ سکی۔ شروع ہی سے توشہ خانہ ایک ایسی جگہ بن گیا جہاں قانون کاغذ پر اور عمل فائلوں میں دفن رہتا تھا۔ تحائف آتے رہے، رجسٹر بنتے رہے، قیمتیں لگتی رہیں، اور قوم صرف اتنا جانتی رہی کہ کچھ نہ کچھ قیمتی ضرور آیا ہے، مگر وہ کہاں گیا، کس قیمت پر گیا اور کیوں گیا، یہ سوال ہمیشہ تشنہ ہی رہے۔ پاکستانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ توشہ خانہ کا معاملہ کبھی کسی ایک حکومت یا ایک جماعت تک محدود نہیں رہا۔ فوجی ادوار ہوں یا جمہوری، ہر دور میں اس ادارے کی کہانی نے طاقتور کے گرد ہی چکر لگایا ہے۔ کبھی یہ کہا گیا کہ قوانین واضح نہیں تھے، کبھی یہ جواز پیش کیا گیا کہ روایت یہی چلی آ رہی ہے، اور کبھی یہ دلیل دی گئی کہ سب کچھ قواعد کے مطابق ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قواعد بھی طاقت کے مطابق بدلتے رہے ہیں۔ جو چیز ایک دور میں معمول سمجھی گئی، وہی اگلے دور میں جرم بن گئی، اور جو کل جرم تھی وہ آج روایت کہلا گئی۔ عدالتی فیصلوں کی تاریخ بھی اس حوالے سے خاصی دلچسپ ہے۔ پاکستان میں کئی ایسے مقدمات ہیں جنہیں وقت نے خود ہی نمٹا دیا۔ کچھ کیسز کھلے مگر منطقی انجام تک نہ پہنچ سکے، کچھ بند ہوئے مگر سوالات کھلے رہ گئے، اور کچھ ایسے بھی تھے جن پر خاموشی کی ایسی چادر ڈالی گئی کہ بعد میں ان کا ذکر کرنا بھی معیوب سمجھا گیا۔ توشہ خانہ سے متعلق بھی ایسے متعدد معاملات ہیں جن پر کبھی انگلی اٹھی، کبھی سرگوشیاں ہوئیں، مگر بالآخر فائل بند ہو گئی۔ ان بند فائلوں کے اندر کیا تھا، یہ شاید تاریخ ہی کبھی مکمل طور پر نہ جان سکے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں احتساب ہمیشہ انتخابی رہا ہے۔ جس کا وقت آیا، اس کا احتساب ہو گیا، اور جس کا وقت نہیں آیا، اس کے لیے قوانین میں گنجائش نکل آئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی نوعیت کے معاملات میں مختلف فیصلے سامنے آئے۔ کہیں رعایت، کہیں سختی، کہیں نظرِ ثانی، اور کہیں مکمل خاموشی۔ اس تضاد نے عوام کے ذہن میں قانون کی ساکھ کو کمزور کیا اور یہ تاثر مضبوط کیا کہ اصل مسئلہ جرم نہیں بلکہ مجرم کی سیاسی حیثیت ہے۔ توشہ خانہ کی بحث میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں تحائف اکثر علامت بن جاتے ہیں۔ کبھی ایک گھڑی پورے نظامِ سیاست کی علامت بن جاتی ہے، کبھی ایک گاڑی طاقت اور استحقاق کی نشانی بن جاتی ہے، اور کبھی زیورات قومی خزانے اور ذاتی مفاد کے درمیان لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ مریم نواز کی بی ایم ڈبلیو والی کہانی بھی اسی علامتی سیاست کا حصہ بن گئی تھی۔ وہ گاڑی محض ایک گاڑی نہیں تھی بلکہ اس سوال کی نمائندہ تھی کہ طاقتور کے لیے ریاستی وسائل کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔ اس وقت بھی بحث یہ نہیں تھی کہ گاڑی کیسے آئی، بلکہ یہ تھی کہ ایسے معاملات میں شفافیت کیوں نہیں ہوتی۔ پاکستانی سیاست میں طنز کا پہلو خود بخود جنم لیتا ہے، کیونکہ حالات اکثر سنجیدگی کے متحمل نہیں ہوتے۔ یہاں قانون کبھی اندھا نہیں ہوتا بلکہ اکثر پہچان لیتا ہے کہ سامنے کون کھڑا ہے۔ توشہ خانہ بھی اسی طنز کا شکار رہا ہے۔ ایک طرف اسے قومی امانت کہا جاتا ہے، دوسری طرف اس کے قوانین اتنے لچکدار رہے ہیں کہ ہر طاقتور اپنی سہولت کے مطابق انہیں موڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے لیے یہ معاملہ اب محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی بن چکا ہے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ پاکستان میں توشہ خانہ کے قوانین پر کبھی سنجیدہ اصلاح کی کوشش نہیں ہوئی۔ ہر حکومت نے اسے وراثت میں ملا ہوا مسئلہ سمجھ کر ٹال دیا۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اگر واقعی یہ تحائف قومی ملکیت ہیں تو ان کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے کیوں نہ رکھی جائے۔ کیوں نہ ایک ایسا شفاف نظام بنایا جائے جہاں ہر تحفے کی قیمت، اس کا مصرف اور اس کا انجام واضح ہو۔ مگر شاید شفافیت ہمارے نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے۔ عدالتیں جب ایسے معاملات پر فیصلے دیتی ہیں تو وہ محض ایک مقدمہ نہیں نمٹاتیں بلکہ ایک سیاسی اور سماجی پیغام بھی دیتی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ پیغام اکثر یکساں نہیں ہوتا۔ کبھی فیصلے کو مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور کبھی اسی فیصلے کو متنازعہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام الجھن کا شکار رہتے ہیں اور قانون پر اعتماد مزید کمزور ہوتا جاتا ہے۔ اگر ماضی کی طرف دیکھا جائے تو یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں بڑے فیصلے اکثر تاریخ کے دباؤ میں کیے گئے، نہ کہ اصولوں کی بنیاد پر۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم انہی سوالات کے گرد گھوم رہے ہیں جو دہائیوں پہلے اٹھے تھے۔ توشہ خانہ کا مسئلہ بھی انہی سوالات میں سے ایک ہے۔ ہم اب تک یہ طے نہیں کر سکے کہ ریاستی تحفہ آخر ہے کیا، اس کی ملکیت کس کی ہے، اور اس کا استعمال کس حد تک جائز ہے۔ طنز یہ ہے کہ جس ملک میں کروڑوں لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہوں، وہاں ہم زیورات، گھڑیوں اور گاڑیوں کی قیمتوں پر بحث کر رہے ہیں۔ مگر شاید یہی ہماری سیاست کی اصل تصویر ہے۔ یہاں بڑے مسائل ہمیشہ چھوٹے کمروں میں بند رہتے ہیں، اور چھوٹے کمروں کے معاملات قومی بحران بن جاتے ہیں۔ توشہ خانہ بھی ایک چھوٹا سا کمرہ ہے، مگر اس کے اندر کی کہانیاں پوری ریاست کا عکس دکھاتی ہیں۔ آخر میں سوال یہ نہیں کہ آج کس کو سزا ملی یا کل کس کو ملے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی اس نظام کو درست کرنے کی کوشش کریں گے جس نے یہ سب ممکن بنایا۔ اگر توشہ خانہ واقعی قومی امانت ہے تو پھر اس کا حساب بھی قومی ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی۔ ورنہ ہر چند سال بعد ایک نیا مقدمہ، ایک نیا فیصلہ اور ایک نیا کالم لکھا جاتا رہے گا، اور ہم یہی کہتے رہیں گے کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ اور شاید حقیقت یہی ہے کہ پاکستان میں تاریخ دہراتی نہیں، ہم خود اسے دہرانے پر مجبور کرتے ہیں۔